سورة البقرة - آیت 41

وَآمِنُوا بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اس پر ایمان لاؤ جو میں نے اتارا ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمھارے پاس ہے اور تم سب سے پہلے اس سے کفر کرنے والے نہ بنو اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت مت لو اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

1۔ سب سے پہلے کافر بننے سے مراد یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تمھیں تو سب سے پہلے ایمان لانا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس اگر تم ان کے ساتھ کفر کرتے ہو تو تم پہلے کافر ہوئے جو جانتے بوجھتے ہوئے کفر کر رہے ہو، اپنے آپ پر یہ ظلم نہ کرو۔ اس سے پہلے مشرکین مکہ نے جو کفر کیا تھا وہ جہالت کی وجہ سے تھا۔ اس لیے اشکال لازم نہیں آتا کہ کفار مکہ نے ان سے پہلے کفر کیا تھا۔ ( بیضاوی ) وَ لَا تَشْتَرُوْا....: اس سے مراد دنیاوی مفاد کے لیے آیات الٰہی کو چھپانا ہے۔ یہ مسلم قاعدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ۔ دوسرے مقامات پر اللہ کی آیات کے بدلے کم قیمت خریدنے کا ذکر جہاں آیا ہے اس کی وضاحت بھی موجود ہے کہ اس سے کیا مراد ہے، چنانچہ سورۂ بقرہ میں فرمایا : ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (174) اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ﴾ [ البقرۃ : ۱۷۴، ۱۷۵ ] ’’ بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے بدلے خریدا، سو وہ آگ پر کس قدر صبر کرنے والے ہیں ؟‘‘ اور سورۃ آل عمران میں فرمایا : ﴿ وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ ﴾ [ آل عمران : ۱۸۷ ] ’’اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں ۔‘‘ دنیا کی خاطر احکام الٰہی کو بدلنا بھی اس میں شامل ہے۔ وہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو رشوت لے کر غلط فتویٰ دیتے ہیں ۔ اس آیت کا تعلیم کتاب کی اجرت سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ یہ اجرت کسی غلط کام پر نہیں ، بلکہ ایک نہایت پاکیزہ محنت پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰهِ )) ’’سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ [ بخاری، کتاب الطب، باب الشروط فی الرقیۃ .... : ۵۷۳۷ ]’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف دم کی اجرت ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سورتوں کی تعلیم کے بدلے ایک صحابی سے ایک خاتون کا نکاح کر دیا تھا۔ [ بخاری، النکاح، باب التزویج علی القرآن .... : ۵۱۴۹ عن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ] وہاں دم کی تاویل کیسے ہو گی؟ جن حضرات نے قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت منع کی تھی ان کے نام لیواؤں نے یہ کہہ کر تنخواہ لینا شروع کر دی ہے کہ آج کل قرآن و حدیث کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے، ورنہ مدارس اور مساجد ویران ہو جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل ہی نہیں ہمیشہ سے یہ اجرت حلال تھی، بلکہ بہترین محنت اور بہترین اجرت تھی اور ہے، اس کا قرآن بیچنے سے کوئی تعلق نہیں ۔ تھوڑی قیمت کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی کے بدلے میں پوری دنیا بھی ملے تو متاع قلیل ہے، فرمایا : ﴿ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ﴾ [ النساء : ۷۷ ] ’’کہہ دو، دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔‘‘