سورة الشورى - آیت 13

شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ مشرکوں پر وہ بات بھاری ہے جس کی طرف تو انھیں بلاتا ہے، اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا: سورت کے شروع میں جو بات فرمائی : ﴿ كَذٰلِكَ يُوْحِيْ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ﴾ (اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے) یہاں سے وہی بات مزید تفصیل کے ساتھ بیان ہو رہی ہے۔ ’’ لَكُمْ ‘‘ سے خطاب ہماری امت کو ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے کوئی اجنبی یا انوکھا دین مقرر نہیں فرمایا، یہ وہی دین ہے جو اس نے پہلے اور پچھلے تمام انبیاء کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہے اور وہ ہے اسلام، جیسا کہ فرمایا : ﴿ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ ﴾ [آل عمران : ۱۹ ] ’’بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘ جس کا معنی مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہو جانا ہے۔ اس دین کا عنوان ’’لَا إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ‘‘ یعنی اللہ واحد کی عبادت و اطاعت ہے۔ تمام انبیاء و رسل کی طرف اسی ایک دین کی وحی کی گئی ہے، فرمایا : ﴿ وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ﴾ [ الأنبیاء : ۲۵ ] ’’اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔‘‘ سورۂ انعام میں توحید کی تاکید اور شرک کا رد کرنے کے بعد نوح اور ابراہیم علیھما السلام سمیت اٹھارہ پیغمبروں کا ذکر ان کا نام لے کر فرمایا، پھر ان کے آباء، اولاد اور بھائیوں کا ذکر کرکے فرمایا کہ اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کا وہ سب کچھ ضائع ہو جاتا جو وہ کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے طریقے پر چلنے کا حکم دیا اور فرمایا : ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ﴾ [الأنعام : ۹۰ ] ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ 2۔ دین کن چیزوں کا نام ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَ مَا اُمِرُوْا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ حُنَفَآءَ وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ ﴾ [ البینۃ : ۵ ] ’’اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ اللہ واحد کی عبادت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا دین ہے، جس کا پہلی امتوں کو بھی حکم تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی مشہور حدیثِ جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام، ایمان اور احسان کی تفصیل فرمائی، پھر قیامت اور اس کی چند علامات کا ذکر فرمایا، جب جبریل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( فَإِنَّهُ جِبْرِيْلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ )) [ مسلم، الإیمان، باب بیان الإیمان و الإسلام....: ۸۔ بخاري : ۵۰ ] ’’وہ جبریل( علیہ السلام ) تھے، تمھارے پاس آئے تھے، تمھیں تمھارا دین سکھا رہے تھے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے پانچوں ارکان دین ہیں، اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان دین ہے، عمل میں اخلاص اور احسان دین ہے، قیامت کے معاملات کی فکر دین ہے۔ پھر جب ایمان دین ہے تو ایمان میں شامل وہ تمام چیزیں بھی دین ہیں جنھیں قرآن مجید یا حدیث میں ایمان یا ایمان کی شاخ قرار دیا گیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’بَابُ أُمُوْرِ الْإِيْمَانِ‘‘ میں قرآن مجید کی دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورۂ بقرہ کی آیت : ﴿ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِيّٖنَ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ وَ السَّآىِٕلِيْنَ وَ فِي الرِّقَابِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا وَ الصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِيْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾ [ البقرۃ : ۱۷۷ ] ’’نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔ ‘‘ اور سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات : ﴿قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (1) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ (2) وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (3) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ (4) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ (5) اِلَّا عَلٰى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ (6) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ (7) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ (8) وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ (9) اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴾ [ المؤمنون : ۱تا۱۱ ] ’’یقیناً کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔ اور وہی لوگ جو (ہر عمل) پاک ہونے ہی کے لیے کرنے والے ہیں۔اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔ اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘ اس کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اَلْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ )) [ بخاري، الإیمان، باب أمور الإیمان : ۹۔ مسلم : ۳۵ ] ’’ایمان کی ساٹھ(۶۰) سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کا جزو ہے۔‘‘ اس کے بعد مختلف ابواب میں امورِ دین کا بیان فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ کہ تمام انبیاء کا اصل دین ایک ہے، البتہ کسی عمل کی ادائیگی کی کیفیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ مثلاً نماز ہر امت پر فرض تھی، اس کے اوقات اور رکعات کی تعداد وغیرہ میں فرق ہو سکتا ہے۔ روزہ سب پر فرض تھا، مگر اس کی کیفیت میں اختلاف معلوم ہے۔ زکوٰۃ ہر امت پر فرض تھی، مگر اس کے نصاب اور مقدار وغیرہ میں فرق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مختلف اقوام اور اوقات کے لحاظ سے بعض اشیاء کی تحلیل و تحریم میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق نسخ ہو سکتا ہے، تبدیلی ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔ بعض امتوں میں کئی معاملات میں تخفیف اور بعض میں سختی ہو سکتی ہے، مگر اصل دین ایک ہے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو اس سورت کی تیسری آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے : ((اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ )) [ بخاري : ۳۴۴۳ ] ’’انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں۔‘‘یہاں تک کہ خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل فرما دیا، فرمایا : ﴿ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ﴾ [ المائدۃ : ۳ ] ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔‘‘ وَ الَّذِيْ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِهٖ....: اگرچہ تمام انبیاء کا دین ایک تھا، مگر یہاں صرف پانچ پیغمبروں کا ذکر فرمایا اور ان کی ترتیب بھی ان کے زمانے کے حساب سے نہیں رکھی۔ مفسرین فرماتے ہیں تمام انبیاء کا نام لینا تو ممکن نہ تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی (دیکھیے مومن : ۷۸) اس لیے ہر مقام پر اس کے مناسب انبیاء کا ذکر فرمایا۔ یہاں پہلے دو رسولوں کا ذکر فرمایا جن میں سے نوح علیہ السلام زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول تھے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے۔ [ دیکھیے بخاري : ۳۳۴۰ ] اس سے پہلے آدم علیہ السلام بے شک نبی تھے، مگر انھیں کسی امت کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے رسول کے ساتھ ہی سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا گیا، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ دین پہلے رسول سے آخری رسول تک ایک ہی ہے۔ اس کے بعد تین جلیل القدر رسولوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت آسمانی مذاہب میں سے انھی تینوں کے پیروکار ہونے کے مدعی تمام دنیا میں پائے جاتے تھے۔ عرب کے مشرکین ابراہیمی ہونے کے دعوے دار تھے، یہودی موسیٰ علیہ السلام اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کے امتی کہلاتے تھے۔ ان کے علاوہ کسی پیغمبر کی طرف منسوب کوئی قابل ذکر قوم نہ تھی۔ اس لیے فرمایا کہ ان سب کا دین ایک ہے، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔ سورۂ احزاب میں بھی ان پانچ انبیاء کا ذکر ایک آیت میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۷)۔ اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ: یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین قائم کرو۔ دین قائم کرنے میں خود اس پر عمل کرنا بھی شامل ہے، اس کی دعوت و تبلیغ بھی اور عملاً اسے نافذ کرنا بھی۔ دعوت کے ساتھ ساتھ حسبِ استطاعت کفار سے جنگ کا بھی حکم دیا، اس وقت تک کہ وہ کلمہ پڑھیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ سورۂ توبہ میں مشرکین کے متعلق حکم دیا کہ انھیں چار ماہ تک مکہ میں آنے جانے کی اجازت ہے، فرمایا : ﴿ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴾ [ التوبۃ : ۵ ] ’’پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، وَ يُقِيْمُوا الصَّلاَةَ، وَ يُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الْإِسْلاَمِ ، وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ )) [ بخاري، الإیمان، باب : ﴿ فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ....﴾ : ۲۵ ] ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، تو جب وہ ایسا کریں تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔‘‘ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ دینِ حق قبول نہیں کرتے ان سے جزیہ وصول کرنے تک لڑتے رہنے کا حکم دیا، فرمایا : ﴿ قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ ﴾ [ التوبۃ : ۲۹ ] ’’لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔ ‘‘ ظاہر ہے دین کا قیام اور اس پر پوری طرح عمل اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ دوسرے تمام ادیان پر غالب ہو، جیسا کہ فرمایا : ﴿ هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا﴾ [ الفتح : ۲۸ ] ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔ ‘‘ دین اسلام میں نماز پڑھنا اور اپنی زکوٰۃ دے دینا کافی نہیں، اللہ کی زمین پر اس کا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر شخص مسجد میں آ کر نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے، فرمایا : ﴿وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ (40) اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ ﴾ [ الحج : ۴۰، ۴۱ ] ’’اور یقیناً اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقیناً بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ ‘‘ اسلام کا بہت بڑا حصہ وہ ہے جس پر عمل اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب حکومت کی باگ ڈور ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کرنے کا مقصد بیان فرمایا : ﴿ اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ [ النساء : ۱۰۵ ] ’’بے شک ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے۔ ‘‘ ظاہر ہے لوگوں کے درمیان اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ تبھی ہو سکے گا جب اس کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کی حکومت ہو گی، کفار کی سلطنت میں نماز کا وہ نظام جس میں ہر مسلم حتیٰ کہ منافقین بھی مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں، خواہ سست کھڑے ہو کر پڑھیں یا دکھاوے کے لیے پڑھیں، قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ (دیکھیے نساء : ۱۴۳) زکوٰۃ کی تحصیل (توبہ : ۱۰۳) اور اس کی اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم (توبہ : ۶۰) مسلمانوں کی اپنی حکومت کے علاوہ ممکن نہیں۔ سود کو بند کرنے کا حکم اور سود خوری جاری رکھنے والوں کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت عمل میں آ سکتا ہے کہ ملک کی حکومت اور معیشت ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو۔ کتاب اللہ میں قتل اور جراحات کے قصاص کا حکم (بقرہ : ۱۷۸۔ مائدہ : ۴۵)، چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم (مائدہ : ۳۸) اور زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم (نور : ۲تا ۴) مسلم حکام کو دیا گیا ہے، کفار کی عدالت اور ان کی پولیس کو نہیں دیا گیا اور نہ ہی وہ کبھی اسے نافذ کریں گے۔ اس کتاب میں مسلمانوں پر کفار سے قتال اس لیے فرض نہیں کیا گیا (بقرہ : ۱۹۰، ۲۱۶) کہ وہ کفار کی حکومت میں رہ کر ان کی فوج میں بھرتی ہو کر کفر کی خاطر لڑیں گے اور کفار سے جزیہ لینے کا حکم (توبہ : ۲۹) اس مفروضے کے ساتھ نہیں دیا گیا کہ مسلمان کفار کے محکوم رہ کر ان سے جزیہ وصول کریں گے۔ اسلامی احکام کا یہ نقشہ صرف مدینہ میں جا کر ہی پیش نہیں ہوا، مکی سورتوں میں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۸۰، ۸۱)، قصص (۸۵)، روم (۱ تا ۷)، صافات (۱۷۱ تا ۱۷۳)، ص (۱۱)، قمر (۴۳ تا ۴۵) اور سورۂ مزمل (۲۰)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اقامتِ دین کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین قائم کرنے کے لیے دعوت و تبلیغ اور تلوار دونوں سے پورے عرب کو حلقۂ بگوش اسلام کیا اور ایسی حکومت قائم کر دی جو اللہ تعالیٰ کے پورے دین پر عمل کی ضامن تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے اسلام نے اس فریضہ کی تکمیل کی، حتیٰ کہ اللہ کا دین زمین کے مشرق و مغرب میں قائم ہو گیا۔ پھر مسلمان اپنی نااہلی اور کتاب اللہ کے تقاضوں کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسے پس پشت پھینک کر جہاد ترک کر دینے کے نتیجے میں کفار کے محکوم ہو گئے۔ اب ان میں سے کسی کے ہاتھ میں اسلام کی دو چار چیزیں ہیں اور کسی کے ہاتھ میں پانچ دس یا کم و بیش۔ ان کی باقی ساری زندگی کفر کے نظام کی پابند ہے اور افسوس یہ کہ وہ اس پر قانع ہیں اور کفر کے نظام کے پرزے بن چکے ہیں اور ان کے بہت سے لوگ دین اسلام کے غلبے سے مایوس ہو کر جمہوریت اور کفر کے دوسرے نظاموں کو توڑنے کی کوشش کے بجائے انھیں اسلام ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں۔ ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے مطابق ایک مجاہدین کی جماعت ’’طائفہ منصورہ‘‘ باقی ہے اور ہمیشہ رہے گی، جو کبھی کفر کی بالادستی قبول نہیں کرے گی اور دین کے غلبہ کے لیے زبانی کلامی فلسفوں کے بجائے دعوت کے ساتھ ساتھ قتال کا فریضہ بھی سر انجام دیتی رہے گی اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے بہرہ یاب رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس مبارک طائفہ میں شامل فرما دے۔ (آمین) وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ: دین میں جدا جدا ہونے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اہلِ کتاب کی طرح بعض باتوں میں کتاب اللہ پر عمل کیا جائے اور بعض میں کتاب اللہ کے بجائے اپنی مرضی پر عمل کیا جائے، جیسا کہ اہلِ کتاب کے متعلق فرمایا : ﴿اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ﴾ [ البقرۃ : ۸۵ ] ’’پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟‘‘ ایک صورت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات ثابت نہیں اسے دین بنا لیا جائے۔ اسے بدعت کہتے ہیں۔ سنت ہمیشہ ایک ہو گی، کیونکہ جس کی سنت ہے وہ ایک ہے، جبکہ بدعات کا شمار نہیں ہو گا، کیونکہ انھیں ایجاد کرنے والوں کا شمار نہیں ہو سکتا۔ پھر جب آدمی اصل سنت سے بہکتا ہے تو ایک بدعت پر نہیں رہتا بلکہ بدعات اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا الگ فرقہ بنا لیتا ہے۔ اسے معلوم ہو بھی جائے کہ اس کی یا اس کے فرقے یا پیشوا کی فلاں بات کتاب اللہ یا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے پھر بھی وہ اپنے دھڑے کی غلط بات پر اڑا رہے گا، حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور اپنی یا اپنے امام کی بات کو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع کرنے کے بجائے آیات و احادیث کے معانی میں تحریف کرکے انھیں اپنے مطابق ثابت کرے گا۔ نام اس کا تاویل رکھے گا اور کہے گا کہ ہر وہ آیت یا حدیث جو ہمارے فرقے کے بزرگوں کے خلاف ہے اس کی تاویل ہو گی یا وہ منسوخ ہے۔ حالانکہ وہ آیت یا حدیث اس کے بزرگوں کے خلاف نہیں، کیونکہ وہ تو ان بزرگوں سے بہت پہلے نازل ہو چکی ہیں، بلکہ اس کے بزرگوں کی بات آیت یا حدیث کے خلاف ہے کہ انھیں اس کا علم نہیں ہو سکا، یا ان کے ذہن میں نہیں رہی۔ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا : (( أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ مِلَّةً وَ إِنَّ هٰذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَسَبْعِيْنَ، ثِنْتَانِ وَ سَبْعُوْنَ فِي النَّارِ وَ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ، وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارٰی بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَی الْكَلَبُ لِصَاحِبِهِ لاَ يَبْقٰی مِنْهُ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَهُ )) [أبوداؤد، السنۃ، باب شرح السنۃ : ۴۵۹۷ ] ’’سنو! تم سے پہلے اہل کتاب کے لوگ بہتر (۷۲) ملتوں میں جدا جدا ہو گئے اور یہ ملت تہتر (۷۳) ملتوںمیں جدا جدا ہو جائے گی، بہتر (۷۲) آگ میں اور ایک جنت میں ہو گی اور وہی ’’الجماعة ‘‘ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میری امت میں کئی اقوام نکلیں گی جن میں یہ خواہشات (بدعات) اس طرح سرایت کر جائیں گی جیسے کتے کے ہلکاؤ کی بیماری اس کے مریض میں سرایت کر جاتی ہے، نہ اس کی کوئی رگ باقی رہتی ہے اور نہ کوئی جوڑ مگر وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے۔‘‘ مزید دیکھیے سورہ انعام کی آیت (۱۵۹) : ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا﴾ کی تفسیر ۔ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ: وہ بات جس کی دعوت آپ مشرکین کو دیتے ہیں وہ ان پر بہت بھاری ہے، مراد اس سے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت ہے۔ کفار پر یہ دعوت اس قدر بھاری ہے کہ اس کا ماننا تو درکنار وہ اس کا سننا بھی برداشت نہیں کرتے، فرمایا:﴿ وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ اِذَاهُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ﴾ [ الزمر : ۴۵ ] ’’ اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ وہ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں جس میں ایک معبود کی بات ہو، فرمایا : ﴿ اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (5) وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰى اٰلِهَتِكُمْ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ ﴾ [ صٓ : ۵، ۶ ]