سورة الروم - آیت 1

لم

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

الۤم۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ ....: ’’ الٓمّٓ‘‘ کے متعلق سورۂ بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔ سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آ جائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکینِ مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکینِ مکہ پر غلبہ حاصل ہو گا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے اطراف میں دو بڑی طاقتیں موجود تھیں۔ ایک روم کی عیسائی حکومت، جو دو باتوں میں مسلمانوں سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں اہلِ کتاب تھے، دوسرے دونوں آخرت پر یقین رکھتے تھے، لہٰذا مسلمانوں کی ہمدردیاں انھی کے ساتھ تھیں۔ مسلمانوں کی عیسائی حکومت سے ہمدردی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور قریشیوں کی مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش کے باوجود حبشہ کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی اور قریش کی سفارت بری طرح ناکام ہوئی اور انھیں خالی ہاتھ وہاں سے آنا پڑا تھا۔ دوسری بڑی طاقت ایران کی تھی، جو دو وجہوں سے مشرکین مکہ سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ ایرانی دو خداؤں کے قائل اور آتش پرست تھے اور مشرکین بت پرست تھے اور دوسرے یہ کہ دونوں آخرت کے منکر تھے۔ انھی وجوہ کی بنا پر مشرکینِ مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان چھ سو برس کا وقفہ تھا۔ [ دیکھیے بخاري، مناقب الأنصار، باب إسلام سلمان الفارسی رضی اللّٰہ عنہ : ۳۹۴۸ ] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو اس وقت روم و ایران میں جنگ شروع تھی اور اس کی خبریں مکہ میں بھی پہنچتی رہتی تھیں۔ جب ایران کی فتح کی کوئی خبر آتی تو مشرکینِ مکہ بغلیں بجاتے اور اس خبر کو اپنے حق میں نیک فال قرار دیتے اور کہتے کہ جس طرح ایران نے روم کا سر کچلا ہے، ایسے ہی ہم بھی کسی وقت مسلمانوں کا سر کچل دیں گے۔ اس جنگ میں ایرانیوں نے رومیوں کو فیصلہ کن شکست دی، جس کے نتیجے میں عرب کے ساتھ ملنے والے علاقوں میں روم کا اقتدار بالکل ختم ہو گیا۔ یہ خبر مشرکین کے لیے بڑی خوش کن اور مسلمانوں کے لیے بہت صدمے کا باعث تھی۔ مشرکین نے انھیں یہ کہہ کر چھیڑنا شروع کردیا کہ جس طرح ایران نے روم کو ختم کر دیا ہے، ایسے ہی ہم بھی تمھیں مٹا ڈالیں گے۔ ایسے حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اگرچہ بظاہر اہلِ روم کی فتح کے کوئی آثار نہیں تھے مگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر پورا یقین تھا۔ اسی یقین کی بنیاد پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے ساتھ شرط بھی باندھ لی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس واقعہ کی تفصیل کے لیے بہت سی روایات نقل فرمائی ہیں، جن میں سے اکثر کی سند کمزور ہے۔ صرف دو روایتوں کی سند اچھی ہے، وہ یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ پہلی روایت یہ کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ ‘‘ کےمتعلق فرمایا : (( غُلِبَتْ وَ غَلَبَتْ )) ’’رومی مغلوب ہو گئے اور (پھر) غالب آگئے۔‘‘ اور فرمایا، مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہلِ فارس رومیوں پر غالب آئیں، کیونکہ مشرکین اور اہلِ فارس دونوں بت پرست تھے اور مسلمان پسند کرتے تھے کہ رومی فارس والوں پر غالب آئیں، کیونکہ وہ (رومی) اہلِ کتاب تھے۔ لوگوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُوْنَ )) ’’سن لو! یقیناً وہ (رومی) غالب آئیں گے۔‘‘ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات مشرکین کو بتائی تو وہ کہنے لگے : ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لو، اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں یہ کچھ ملے گا اور اگر تم غالب آگئے تو تمھیں یہ کچھ ملے گا۔‘‘ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پانچ سال مدت مقرر کر لی۔ مگر رومی غالب نہ آئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم نے یہ مدت دس سے کم تک کیوں مقرر نہ کی۔‘‘ ابوسعید نے کہا ’’اَلْبِضْعُ‘‘ کا لفظ دس سے کم تک ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، پھر بعد میں رومی غالب آ گئے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ﴿ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ ﴾ سفیان نے فرمایا : ’’میں نے سنا ہے کہ وہ ان پر بدر کے دن غالب آئے۔‘‘ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الروم : ۳۱۹۳، و قال حسن صحیح غریب ] احمد شاکر نے مسند احمد (۲۴۹۵) کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے اور شیخ البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ دوسری روایت یہ کہ نیار بن مکرم الاسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیات اتریں : ﴿ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ﴾ تو ان دنوں فارس کے لوگ رومیوں پر پوری طرح غالب تھے، لیکن مسلمان ان پر رومیوں کے غلبے کو پسند کرتے تھے، کیونکہ رومی اور مسلمان اہلِ کتاب تھے اور اللہ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ﴿ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ ﴾ جبکہ قریش فارس کے غلبے کو پسند کرتے تھے، کیونکہ مشرکین اور فارس والے اہلِ کتاب نہیں تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور مکہ کے کناروں میں چیخ چیخ کر یہ آیات سنانے لگے : ﴿ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ﴾ قریش کے کچھ لوگوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا، ہمارے تمھارے درمیان یہ بات طے ہو گئی، تمھارے ساتھی کا گمان ہے کہ روم فارس پر ’’ بِضْعِ سِنِيْنَ ‘‘ (چند سالوں) میں غالب آ جائیں گے، تو کیا ہم اس پر تمھارے ساتھ شرط نہ رکھ لیں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا، کیوں نہیں! اور یہ جوئے کی شرط حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور مشرکین نے شرط باندھ لی اور شرط کی مقدار طے کر لی۔ انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا، بتاؤ کتنی مدت مقرر کرتے ہو۔’’بِضْعٌ‘‘ تین سال سے نو سال تک ہوتا ہے، تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک اوسط وقت مقرر کر لو جہاں مدت پوری ہو جائے، تو انھوں نے چھ سال کی مدت مقرر کر لی۔ پھر یہ ہوا کہ رومیوں کے غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے، تو مشرکین نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے طے شدہ شرط وصول کر لی۔ لیکن جب ساتواں سال شروع ہوا تو رومی اہلِ فارس پر غالب آ گئے، تو اس پر مسلمانوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا چھ سال مقرر کرنا ان کا قصور قرار دیا کہ انھوں نے چھ سال کی مدت کیوں مقرر کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ’’ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ‘‘ کا لفظ فرمایا ہے، جو نو(۹) سال تک پر بولا جاتا ہے اور اس وقت بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الروم : ۳۱۹۴، و قال حدیث حسن صحیح غریب وقال الألباني حسن ] ان دونوں صحیح حدیثوں سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں رومی اس وقت بری طرح سے مغلوب تھے کہ تمام لوگوں کی نگاہوں میں چند سالوں کے اندر ان کا غالب آنا ممکن نہیں تھا۔ دوسری یہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اللہ تعالیٰ کی آیات پر اتنا مضبوط ایمان تھا کہ ظاہری اسباب کے بالکل مخالف ہونے کے باوجود انھوں نے ان کے سچا ہونے پر مشرکین کے ساتھ شرط طے کرلی۔ تیسری یہ کہ امت کے بڑے سے بڑے شخص سے بھی اجتہاد میں خطا ہو سکتی ہے۔ امتِ مسلمہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے عظیم شخصیت کوئی نہیں، لیکن یہاں ان سے مدت کی تعیین میں خطا ہو گئی، مگر اپنے اجتہاد کے خطا ثابت ہونے پر بھی ان کے اللہ کی آیات پر ایمان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رضی اللہ عنہ نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی درست رائے سے نوازا تھا کہ ان کی خطا پکڑنا بہت ہی مشکل ہے، مگر ان سے بھی خطا ہو جاتی تھی، پھر انھوں نے ان کی خطا کی مثال کے لیے صحیح بخاری سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت بیان کی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : ’’آج رات میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اسے اپنی ہتھیلیوں میں لے رہے ہیں، کوئی زیادہ لینے والا ہے اور کوئی کم لینے والا۔ پھر اچانک ایک رسی آسمان سے زمین تک آ ملی، تو میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا، وہ اس کے ساتھ چڑھ گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا وہ بھی اوپر چڑھ گیا۔ پھر وہ کٹ گئی، پھر دوبارہ مل گئی۔‘‘ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان، آپ کو اللہ کی قسم! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر کروں۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس کی تعبیر کرو۔‘‘ انھوں نے کہا : ’’وہ سائبان تو اسلام ہے اور جو شہد اور گھی ٹپک رہا ہے وہ قرآن کی حلاوت ہے، جو ٹپک رہی ہے۔ پھر کوئی قرآن سے زیادہ حاصل کرنے والا ہے اور کوئی کم حاصل کرنے والا ہے۔ رہی وہ رسی جو آسمان سے زمین تک ملی ہوئی ہے، تو اس سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، آپ اسے پکڑے رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرے گا، پھر آپ کے بعد اسے ایک اور آدمی پکڑے گا اور اس کے ساتھ بلند ہو جائے گا، پھر ایک اور آدمی اسے پکڑے گا اور اس کے ساتھ بلند ہو جائے گا، پھر ایک اور آدمی اسے پکڑے گا تو اس کے ساتھ وہ کٹ جائے گی، پھر اس کے لیے ملا دی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بلند ہو جائے گا۔ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان، مجھے بتائیے ! میں نے درست کہا یا خطا کی؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم نے کچھ درست کہا، کچھ خطا کی۔‘‘ انھوں نے کہا : ’’آپ کو اللہ کی قسم ہے! آپ مجھے وہ ضرور بتائیں جو میں نے خطا کی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’قسم مت ڈالو۔‘‘ [ بخاري، التعبیر، باب من لم یر الرؤیا الأوّل عابر إذا لم یصب : ۷۰۴۶ ] زیر تفسیر آیت میں ’’ بِضْعِ ‘‘ کی تعیین میں بھی ابو بکر رضی اللہ عنہ سے خطا ہو گئی۔ جب امت کے سب سے بڑے شخص سے خطا ہو سکتی ہے تو ان ائمہ سے خطا کیوں نہیں ہو سکتی جن کی تقلید میں لوگوں نے اسلام میں چار فرقے بنا رکھے ہیں، جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر تو کجا صحابی یا تابعی بھی نہیں ہیں اور جن کی بہت سی اجتہادی خطائیں ان کے شاگردوں نے بھی بیان کی ہیں اور جو وحی کے شرف کے حامل بھی نہ تھے کہ وحی کے ذریعے سے ان کی خطا کی اصلاح ہو جاتی ہو۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ امتیوں کے اجتہادات و آراء کو دین سمجھنے کے بجائے صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو خطا سے پاک ہیں، فرمایا : ﴿ اِتَّبِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖ اَوْلِيَآءَ ﴾ [ الأعراف : ۳ ] ’’اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔‘‘ چوتھی بات یہ کہ ان دونوں روایتوں میں سے ایک میں پانچ سال کی مدت مقرر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری میں چھ سال کا۔ اس کے باوجود ائمہ حدیث نے دونوں کو صحیح کہا ہے اور اس اختلاف کو روایتوں کے ضعف کا باعث نہیں سمجھا، کیونکہ اصل مقصود دونوں کا ایک ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو مدت طے کی تھی وہ ’’ بِضْعِ ‘‘ کی اصل مراد سے کم تھی۔ 2۔ ابن کثیر رضی اللہ عنہ نے ابن ابی حاتم اور ابن جریر سے دو روایتیں نقل کی ہیں، جن میں ذکر ہے کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طے کردہ مدت میں رومی غالب نہ آئے اور مشرکین نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شرط کی رقم لے لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر کہ ’’بِضْعٌ‘‘ سے مراد نو(۹) سال تک ہوتے ہیں، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ مشرکین سے شرط لگائی، جس میں مدت زیادہ کی اور شرط کی رقم بھی زیادہ کی۔ چنانچہ نو سال پورے ہونے سے پہلے رومی فارسیوں پر غالب آگئے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے شرط کی رقم وصول کر لی۔ ممکن ہے ایسا ہوا ہو، کیونکہ صحیح روایات میں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔ مگر سند کی رو سے یہ روایات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس مقام پر ابن کثیر رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے فارسیوں پر غالب آنے کے واقعات کی مزید کچھ تفصیل بیان کی ہے، مگر اسے غریب ترین قرار دیا ہے۔ ہمارے بعض اردو مفسرین نے بعض انگریز مؤرخین سے لمبی تفصیل ذکر کی ہے، مگر ان تمام تفصیلات کی کوئی پکی سند ہے نہ کوئی معتبر ذریعہ۔ قرآن کی تفسیر کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے جو قرآن مجید اور صحیح روایات سے ثابت ہے۔ اور یہ کوئی کم عجیب نہیں کہ وہ بات جس کا ہونا لوگوں کی نگاہ میں ممکن ہی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی فرما دی اور ظاہری اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہونے کے باوجود چند ہی سالوں میں وہ رومی دوبارہ غالب آگئے جو بری طرح مغلوب تھے۔ فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ : ’’سب سے قریب زمین‘‘ سے مراد جزیرۂ عرب کی قریب ترین زمین ہے۔ یہ ’’اذرعات‘‘ اور ’’بصريٰ‘‘ کے درمیان کا خطہ ہے، جو شام کی سرحد پر حجاز سے ملتا ہوا مکہ کے قریب واقع ہے۔ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ : یہاں ایک سوال ہے کہ متعین وقت بتانے کے بجائے ’’ بِضْعِ ‘‘ کا لفظ بولنے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو وہ سال، وہ مہینا اور وہ وقت معلوم تھا جس میں روم نے فارس پر غالب آنا تھا مگر اس وقت خبروں کا دوسرے مقامات پر پہنچنا اس طرح تیز رفتار نہ تھا جس طرح آج کل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ متعین وقت بتا دیتا، پھر کسی مقام پر اطلاع پہنچنے میں دیر ہو جاتی تو وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پر طعن کا موقع مل سکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدت کی تعیین کے لیے ایسا لفظ استعمال فرمایا جس سے اس بات کا امکان ہی نہ رہا اور ہر شخص کو قرآن کی پیش گوئی کا حق ہونا ثابت ہو گیا۔ اس کے علاوہ وہ وقت تھوڑا مخفی رکھنے میں یہ حکمت بھی تھی کہ اس غلبے کے انتظار میں مسلمانوں کے حوصلے بلند رہیں کہ اب غلبہ ہوا اور اب ہوا۔ اگر متعین وقت بتا دیا جاتا تو اتنی مدت تک حوصلے ٹوٹے رہتے۔ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ : ’’ الْاَمْرُ ‘‘ سے مراد اللہ کا تکوینی امر ہے، یعنی اس کا ’’كُنْ‘‘ کہنا، جس سے ہر کام ہو جاتا ہے۔ یعنی روم کے مغلوب ہونے سے پہلے بھی ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کے اختیارمیں تھا اور رومیوں کے چند سالوں میں غالب آنے کے بعد بھی ہر کام اسی کے اختیار میں ہے۔ اس میں یہ بھی سبق ہے کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ فلاں کی تدبیر کی وجہ سے اسے فتح ہوئی اور فلاں کی کوتاہی کی وجہ سے اسے شکست ہوئی۔ نہیں! وہ تدبیر یا کوتاہی بھی اسی کی تقدیر میں طے شدہ ہے۔ اسی طرح کوئی یہ نہ سمجھے کہ آسمان کی گردش یا سورج، چاند یا کسی ستارے کی تاثیر سے ایسا ہوا، نہیں! جو ہوا پہلے بھی اللہ کے حکم سے ہوا اور بعد میں بھی اسی کے حکم سے ہوگا۔ سورج، چاند، ستاروں یا آسمان کی گردش کا کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ ، وَلٰكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُمَا فَصَلُّوْا )) [ بخاري، الکسوف، باب لا تنکسف الشمس لموت أحد ولا لحیاتہ : ۱۰۵۷ ] ’’سورج اور چاند نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، بلکہ وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب ان دونوں کو دیکھو تو نماز پڑھو۔‘‘ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ : ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جب بدر کا دن ہوا تو رومی فارس پر غالب ہوئے اور مسلمانوں کو اس سے خوشی ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں : ﴿ الٓمّٓ (1) غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2) فِيْ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3) فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ ﴾ (ابو سعید رضی اللہ عنہ نے) فرمایا : ’’تو مسلمان روم کے فارس پر غالب آنے سے خوش ہوئے۔‘‘ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ الروم : ۳۱۹۲، و قال حسن غریب و قال الألباني صحیح لغیرہ ] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس روایت اور سفیان ثوری اور بہت سے اہلِ علم کے قول کے مطابق روم کو فارس پر یہ غلبہ اس روز حاصل ہوا جس روز مسلمان بدر میں مشرکین پر فتح یاب ہوئے۔ مفسر رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (4) بِنَصْرِ اللّٰهِ ‘‘ (اور اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے) سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس دن مومن روم کی فارس پر فتح کی خبر سے خوش ہوں گے اور یہ بھی کہ اس دن مومن مشرکین کے خلاف اللہ کی نصرت اور بدر کی فتح پر خوش ہوں گے۔ مگر راجح یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس دن اہلِ روم فارس پر غالب آئیں گے اس دن مسلمان مشرکین پر فتح یابی اور اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے، کیونکہ بدر کے دن مسلمانوں کو اپنی فتح پر خوشی ہوئی تھی اور کسی روایت میں ذکر نہیں کہ روم کی فتح یابی کی خبر عین بدر کے دن پہنچی تھی۔ گویا اس آیت میں دو خوش خبریاں ہیں، ایک روم کا چند سالوں میں فارس پر غالب آنا اور ایک اس دن مسلمانوں کا مشرکین پر غلبے سے خوش ہونا اور سب جانتے ہیں کہ دونوں بشارتیں پوری ہوئیں۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح صلح حدیبیہ کے بعد ہوئی۔ ان کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ قیصر روم نے منت مانی تھی کہ جب وہ فتح یاب ہوگا تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) جائے گا۔ چنانچہ جب وہ ایلیا آیا تو ابھی واپس نہیں ہوا تھا کہ اسے دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط ملا جو آپ نے اس کے نام صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا۔ اس کے بعد اس نے ابو سفیان کو بلایا (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور شام میں تجارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے) اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مختلف سوالات کیے، جیسا کہ صحیح بخاری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح بھی اسی سال ہوئی، لیکن اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ رومیوں کو پہلی فتح تو بدر کے دن ہوئی، مگر دشمن کی فوجوں کی مکمل صفائی اور تمام علاقوں کے مکمل بندوبست کے بعد منت پوری کرنے کی نوبت چار سال بعد صلح حدیبیہ کے سال آئی۔ (واللہ اعلم) يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ : آپس میں لڑنے والے کفار میں سے جس کی چاہتا ہے مدد کر دیتا ہے اور مسلمانوں اور کافروں کی لڑائی میں بھی جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ نہ فتح یاب کرنا اس کے راضی ہونے کی دلیل ہے اور نہ شکست دینا اس کی ناراضی کی دلیل ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ آدمی کو آزماتا ہے، جیسا کہ فرمایا : ﴿ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ ﴾ [ آل عمران : ۱۴۰ ] ’’اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو جان لے جو ایمان لائے اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے۔‘‘ اور فرمایا : ﴿ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴾ [ آل عمران : ۲۶ ] ’’کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔‘‘ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ: اور وہی عزیز (سب پر غالب) ہے، جسے وہ نصرت سے نواز دے پھر کوئی اس پر فتح نہیں پا سکتا، مگر اس کا غلبہ بے رحم نہیں، بلکہ وہ رحیم (بے حد رحم والا) ہے، جب چاہتا ہے مغلوب اور شکست خوردہ لوگوں کو پھر فتح سے ہمکنار کر دیتا ہے۔