سورة القصص - آیت 11

وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اس نے اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ پس وہ اسے ایک طرف سے دیکھتی رہی اور وہ شعور نہیں رکھتے تھے۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ:’’ قَصَّ يَقُصُّ‘‘ کا معنی بیان کرنا بھی ہے اور پیچھے پیچھے جانا بھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے ان کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے ایک بھائی ہارون تھے اور ایک بہن تھی۔ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ: ’’عَنْ جُنُبٍ‘‘ کا معنی ’’دور سے‘‘ یا ’’جانب سے‘‘ یعنی وہ کنارے پر رہ کر ساتھ چلتی ہوئی دور سے اسے دیکھتی رہی، اس طرح کہ کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس سے اس لڑکی کی دانائی اور ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ ماں نے صرف پیچھے پیچھے جانے کو کہا تھا، یہ اس کی دانش مندی تھی کہ پیچھے کس طرح جانا ہے۔ ایک عرب شاعر نے خوب کہا ہے : إِذَا كُنْتَ فِيْ حَاجَةٍ مُرْسِلاً فَأَرْسِلْ حَكِيْمًا وَ لَا تُوْصِهٖ ’’جب تم کسی کام کے لیے بھیجو تو دانا آدمی کو بھیجو، پھر اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔‘‘