سورة الفرقان - آیت 16

لَّهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ خَالِدِينَ ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُولًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ان کے لیے اس میں جو چاہیں گے ہوگا، ہمیشہ رہنے والے، یہ تیرے رب کے ذمے ہوچکا، ایسا وعدہ جو قابل طلب ہے۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ خٰلِدِيْنَ:’’ لَهُمْ ‘‘ اور ’’ فِيْهَا ‘‘ کو پہلے لانے میں حصر کا مفہوم ہے، یعنی یہ نعمت کہ جو چاہیں مل جائے، صرف متقی لوگوں کو حاصل ہو گی اور انھیں بھی صرف جنت میں ملے گی۔ دنیا میں یہ نعمت نہ متقی لوگوں کو حاصل ہے نہ غیر متقی لوگوں کو۔ دنیا میں ہر ایک کا حال وہ ہے جو شاعر نے بیان کیا ہے: مَا كُلُّ مَا يَتَمَنَّي الْمَرْءُ يُدْرِكُهُ تَجْرِي الرِّيَاحُ بِمَا لَا تَشْتَهِي السُّفُنُ ’’ایسا نہیں کہ آدمی جو بھی تمنا کرے اسے حاصل ہی کر لے، کیونکہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلا کرتی ہیں۔‘‘ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی آیت(۳۱): ﴿وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ﴾ میں بھی اسی آیت کا مضمون بیان ہوا ہے۔ 2۔ یہاں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ جنتیوں کو جب ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے تو اگر وہ نبیوں کے مرتبے کی خواہش کریں تو کیا انھیں وہ بھی حاصل ہو جائے گا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ایسی تمنا پیدا ہی نہیں ہو گی، وہ سب اپنے اپنے شغل ہی میں خوش ہوں گے اور سب حسد اور تنافس سے پاک اپنی حالت پر خوش ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ﴾ [یٰسٓ : ۵۵ ] ’’بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔‘‘ اور جنت میں درجوں کا تفاوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَ وْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ )) [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ....: ۳۲۵۶ ] ’’اہلِ جنت اپنے اوپر کے بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ نہایت چمک دار تارے کو دیکھتے ہیں، جو مشرق یا مغرب کے دور افق میں ہوتا ہے، ان کی ایک دوسرے کے درمیان درجوں کی برتری کی وجہ سے۔‘‘ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا : اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے، یا یہ ایسا وعدہ ہے جو مانگنے پر یقیناً پورا کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ’’ اُولُوا الْاَلْبَابِ ‘‘ (مومنوں) کی دعا ذکر فرمائی ہے، جو وہ کیا کرتے ہیں: ﴿رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ﴾ [آل عمران : ۱۹۴ ] ’’اے ہمارے رب! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘ طبری نے بعض اہل عربیت سے ’’ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا ‘‘ کا معنی ’’ وَعْدًا وَاجِبًا ‘‘ نقل فرمایا ہے، کیونکہ جس چیز کا سوال یا مطالبہ ہو سکتا ہو وہ واجب ہوتی ہے، خواہ مطالبہ نہ ہی کیا جائے، مثلاً قرض، جیسا کہ عرب کہتے ہیں : ’’ لَأُعْطِيَنَّكَ أَلْفًا وَّعْدًا مَسْؤلًا‘‘ ’’میں تمھیں ایک ہزار دوں گا، یہ مسؤل وعدہ ہے۔‘‘ یعنی تمھارے لیے واجب ہے، تم اس کا سوال اور مطالبہ کر سکتے ہو۔