سورة الفرقان - آیت 1

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ....: اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سب سے پہلے توحید پر کلام فرمایا، کیونکہ وہ سب سے پہلے اور سب سے اہم ہے، پھر نبوت پر، کیونکہ وہ رب اور بندے کے درمیان واسطہ ہے، پھر قیامت پر، کیونکہ وہ خاتمہ ہے۔ (شوکانی) 2۔ ’’ تَبٰرَكَ ‘‘ ’’بَرَكَةٌ‘‘ سے باب تفاعل ہے، ’’بَرَكَةٌ‘‘ کا اشتقاق ’’ بِرْكَةٌ ‘‘ (حوض) سے ہے کہ اس میں بہت زیادہ پانی ہوتا ہے، یا ’’بَرَكَ الْإِبِلُ‘‘ سے ہے، جس کا معنی اونٹ کا بیٹھنا ہے۔ باب تفاعل میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے اس کا ترجمہ ’’بہت برکت والا ہے‘‘ کیا گیا ہے۔ برکت سے مراد خیر میں زیادہ ہونا، بڑھا ہوا ہونا، دائمی خیر والا ہونا ہے۔ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بے انتہا بڑھا ہوا ہے۔ بلندی، بڑائی، احسان، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بے حد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ یاد رہے ’’ تَبٰرَكَ ‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے آتا ہے، کسی اور میں یہ خوبی نہیں۔ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ : ’’نَزَّلَ‘‘ میں تکرار کا معنی پایا جاتا ہے، یعنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا۔ اس کی حکمت آگے آیت (۳۲) میں آ رہی ہے۔ قرآن کو ’’ الْفُرْقَانَ ‘‘ کہا ہے، یعنی یہ اپنے احکام کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے اور اسی لفظ کی بنا پر اس سورت کا نام ’’الفرقان‘‘ رکھا گیا ہے۔ عَلٰى عَبْدِهٖ : دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیر۔ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا: اس میں آپ پر قرآن نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ سارے جہانوں سے مراد قیامت تک تمام جن و انس ہیں، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ان سب کے لیے ہے، کوئی دوسرا رسول دنیا میں ایسا نہیں آیا۔ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۸)، انعام (۱۹)، سبا (۲۸) اور احزاب (۴۰) عرب اور اہلِ کتاب کی صراحت کے لیے دیکھیے آل عمران (۲۰) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِيْ… وَ كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِهِ خَاصَّةً وَ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ كَافَّةً )) [بخاري، الصلاۃ، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : جعلت لي الأرض....: ۴۳۸ ] ’’مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں… (ان میں سے ایک یہ ہے کہ) پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘ 6۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ’’نذیر‘‘ ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ آگے کفار کے اقوال و احوال اور ان کے انجام کا ذکر ہے، اس کے مناسب ڈرانا ہی ہے۔ نذارت و بشارت دونوں کا اکٹھا ذکر آگے آ رہا ہے، فرمایا: ﴿وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا﴾ [الفرقان : ۵۶ ] ’’اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔‘‘