سورة طه - آیت 12

إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک میں ہی تیرا رب ہوں، سو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے، بے شک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ : غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا : (( خَالِفُوا الْيَهُوْدَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّوْنَ فِيْ نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ )) [أبوداؤد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : ۶۵۲، و صححہ الألباني ] ’’یہودیوں کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔‘‘ اگر دوسری حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کی رو سے جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض تھا۔ وہ حدیث یہ ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں : (( رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا )) [أبوداؤد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : ۶۵۳ ] ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتا پہن کر (دونوں طرح) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ 2۔ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى : ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : ’’طویٰ اس وادی کا نام ہے۔‘‘ [ طبري بسند حسن ] یہ الفاظ دلیل ہیں کہ اس وقت موسیٰ علیہ السلام کے جوتے ناپاک تھے، اگر وہ پاک ہوتے تو اس وادی کو پاک بتا کر جوتے اتارنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (( بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ ؟ قَالُوْا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِيْهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًی، وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْيَنْطُرْ فإِنْ رَأَی فِيْ نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيْهِمَا )) [أبوداؤد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : ۶۵۰، و صححہ الألباني ] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے، دوران نماز آپ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنی بائیں طرف رکھ دیے۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ نے اپنی نماز پوری کی تو فرمایا : ’’تمھارے جوتے اتارنے کا باعث کیا ہوا؟‘‘ انھوں نے کہا : ’’ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میرے پاس جبریل آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ لے، پھر اگر اپنے جوتوں میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے مل کر صاف کر لے اور انھیں پہن کر نماز پڑھ لے۔‘‘ یہ حدیث دلیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو جوتے اتارنے کے حکم کی وجہ وادی کا پاک ہونا اور جوتوں کا ناپاک ہونا تھا۔ یہ وجہ نہ تھی کہ کسی مقدس جگہ میں جوتے پہن کر جانا منع ہے، کیونکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مسجد پاک ترین جگہ ہے اور اسے پاک رکھنے کا حکم بھی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۵) اور سورۂ حج (۲۶) اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے : (( أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ )) [أبوداؤد، الصلاۃ، باب اتخاذ المساجد فی الدور : ۴۵۵۔ ترمذی : ۵۹۴۔ ابن ماجہ : ۷۵۸، صحیح ] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ انھیں صاف ستھرا رکھا جائے اور خوشبو دار بنایا جائے۔‘‘ جوتے پاک ہوں تو مسجد میں جا سکتے ہیں تو کسی اور جگہ کیوں نہیں جا سکتے؟ بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے، اس لیے انھیں اتارنے کا حکم ہوا، مگر یہ روایات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے جوتوں میں کیا چیز تھی جو وادی مقدس کے لائق نہ تھی، کیونکہ پاک جوتے جب مسجد نبوی میں پہنے جا سکتے ہیں تو تین مسجدوں سے زیادہ مقدس جگہ کون سی ہوگی؟ 3۔ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے تھے اور نہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ورنہ جبریل علیہ السلام کو جوتوں میں نجاست کی اطلاع کے لیے دوران نماز آپ کے پاس آنے کی ضرورت نہ تھی اور اگر موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے ہوتے تو نہ راستہ بھولتے اور نہ آگ کو عام آگ سمجھتے، نہ اللہ تعالیٰ کو وادی مقدس کا بتا کر انھیں جوتے اتارنے کا حکم دینا پڑتا اور نہ یہ کہہ کر تعارف کروانا پڑتا کہ میں تیرا رب تجھ سے مخاطب ہوں اور نہ اس کے بعد جبریل علیہ السلام کو بار بار آ کر وحی پہنچانا پڑتی۔ مگر افسوس کہ ولیوں اور نبیوں کو غیب دان کہنے والے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔ 4۔ اوپر کی حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتے پاک کرنے کے لیے کپڑے کو پاک کرنے کی طرح دھونا ضروری نہیں، بلکہ صرف مٹی سے مل کر صاف کر دینا کافی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث ہر اس بہانے کا جواب ہے جو جوتوں سمیت نماز سے روکنے والے کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ یہ سفر کے لیے ہے، یا یہ کسی میدان وغیرہ میں نماز کے لیے ہے مسجد کے لیے نہیں، یا یہ کہ جوتا نیا ہو تو جائز ہے، یا یہ کہ دھویا ہوا ہو تو ٹھیک ہے، یا یہ کہ جوتا پہننا اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے ادب کے خلاف ہے وغیرہ، ان تمام باتوں کا جواب اسی حدیث پر غور کر نے سے مل جاتا ہے۔ 5۔ جیسا کہ اوپر گزرا جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض نہیں مستحب ہے۔ اس لیے اگر لا علم لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خوف ہو تو جوتوں سمیت نماز پڑھنے سے پہلے انھیں اچھی طرح سمجھانا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ متنفر ہو کر نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔