سورة التوبہ - آیت 128

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بلاشہ یقیناً تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ....: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات عالیہ کا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے۔ ایک صفت ’’لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ ‘‘ میں لفظ ’’رَسُوْلٌ‘‘ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں، یعنی خود نہیں آئے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ ایک احسان ’’جَآءَكُمْ ‘‘ ہے، یعنی تمام لوگوں کی طرف قیامت تک کے لیے آنے والا رسول تم عربوں میں آیا ہے، عربی رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت کے لیے تمھیں منتخب فرمایا ہے۔ ’’ كُمْ‘‘ کے مخاطب تمام دنیا کے لوگ ہیں، مگر اول مخاطب عرب ہیں، آپ کی تیسری صفت اور اللہ کا احسان ’’مِنْ اَنْفُسِكُمْ‘‘ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری جنس سے، یعنی انسانوں میں سے ہیں، انھیں تمام انسانی ضروریات لاحق ہیں، وہ آدم کی اولاد سے ہیں، ان کے ماں باپ بھی ہیں، قریش کے ہر خاندان سے کوئی نہ کوئی رشتہ داری ہے، بیویاں اور اولاد بھی ہیں، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بھوک، پیاس اور وفات سب کچھ آپ پر گزرا، صحت و مرض، رنج و راحت ہر مرحلے سے گزرے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز میں تمھارے لیے نمونہ ہیں۔ اگر وہ جن یا فرشتہ یا کوئی اور جنس ہوتے تو تمھارے لیے نمونہ اور اسوۂ حسنہ کیسے بنتے؟ اللہ کا احسان مانو کہ اس نے خود تم میں سے ایک نمونہ اپنا پیغام دے کر بھیجا کہ اس کی بات بھی سنو اور اس کی ذات کو دیکھ کر اس کے مطابق عمل بھی کرو۔ مزید دیکھے سورۂ آل عمران(۱۶۴) چوتھی یہ کہ ’’عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ‘‘ تمھارا کسی طرح بھی مشقت یا مصیبت میں پڑنا اس پر نہایت شاق ہے، وہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ تم کفر اختیار کرکے دنیا میں حیوانوں سے بدتر زندگی گزارو، پھر آخرت میں جہنم کا ایندھن بنو، اس فکر میں وہ گھلتا جا رہا ہے، اتنا کہ اللہ تعالیٰ کو اسے تسلی دلانا پڑتی ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۶)، آل عمران (۱۷۶)، شعراء ( ۳) اور شوریٰ (۴۸) پھر وہ ایسا دین لے کر آیا ہے جس میں کوئی مشکل نہیں، نہایت آسان اور سادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اِنِّيْ اُرْسِلْتُ بِحَنِيْفِيَّةٍ سَمْحَةٍ )) [ أحمد :6؍116، ح : ۲۴۹۰۸، عن عائشۃرضی اللّٰہ عنھا ، قال شعیب الأرنؤوط وغیرہ حدیث قوی، إسنادہ حسن ] ’’مجھے حنیفی (ابراہیم حنیف والی) آسان شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور فرمایا : (( اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ ))’’یہ دین سراسر آسان ہے۔‘‘ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر : ۳۹، عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ] ایسا مہربان نبی کہ طائف میں دس دن رہ کر مار کھا کر زخمی اور بے ہوش ہو کر نکلا اور ہوش آنے پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا کہ اگر کہو تو میں (دو پہاڑوں) اخشبین میں ان کفار کو پیس دوں؟ تو فرمایا: ’’مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔‘‘ [ بخاری، بدء الخلق، باب إذا قال إحدکم آمین....: ۳۲۳۱، عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ] پانچویں یہ کہ ’’ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ‘‘ رات دن اس کی یہی کوشش ہے اور اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے تم دوزخ سے بچ جاؤ اور دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کر لو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ’’حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ ‘‘ کا ترجمہ کیا ہے ’’تلاش رکھتا ہے تمھاری۔‘‘ اس کی وضاحت میں فرمایا : ’’چاہتا ہے کہ میری امت زیادہ ہوتی رہے۔‘‘ (موضح) اس لیے زیادہ اولاد دینے والے خاندانوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دی، فرمایا : (( تَزَوَّجُوا الْوَلُوْدَ الْوَدُوْدَ فَاِنِّيْ مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ)) ’’ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے دینے والی، بہت محبت کر نے والی ہوں، کیونکہ میں دوسری امتوں کے سامنے تمھاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں۔‘‘ [نسائی، النکاح، باب کراھیۃ تزویج العقیم : ۳۲۲۹۔ أبو داؤد : ۲۰۵۰ ] چھٹی ’’بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لیے جاتے، ان کے جنازے میں پہنچتے، نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر ماں کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے نماز مختصر کر دیتے، خود بھوکے رہ کر انھیں کھلاتے پلاتے، نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انسانوں کے ساتھ شفقت و ہمدردی کو دیکھیں جس کی شہادت ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے دی، تو مومنوں پر آپ کی نرمی اور رحمت کا خود بخود اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے، اللہ تعالیٰ نے جو ایک مقبول دعا ہر نبی کی طرح آپ کو عطا کی، سب نے کر لی، مگر آپ نے اپنی امت کی شفاعت کرنے کے لیے سنبھال کر رکھ لی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے جنت میں اپنے اس مہربان نبی کی رفاقت عطا فرمائے۔ (آمین)