سورة الانعام - آیت 88

ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقیناً ان سے ضائع ہوجاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(82) ان انبیاء کرام نبی اور رسول ہونے کا جو شرف حاصل ہوا وہ محض اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوا اور اسی ذات باری تعالیٰ نے انہیں دین خالص کی ہدا یت دی، اور اگر وہ ان عظمتوں کے باوجود شرکا ارتکاب کر بیٹھے، تو ان کے سارے اعمال صالحہ ضائع ہوجاتے۔ تو اگر دوسرے لوگ شرک کا سرتکاب کریں گے تو ان کا کیا حال ہوگا، حافظ ابن کیثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں شرک کی ہیت ناکی اور اس کی خطر ناکی کی کو بیان کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ زمر آیت (65) میں فرمایا ہے : کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کرام کو بذریعہ وحی بتایا گیا ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا ،