سورة الانعام - آیت 39

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ ۗ مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں، جسے اللہ چاہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے پر لگا دیتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(42) جو لوگ اللہ تعالیٰ کو جھٹلاتے ہیں انکی مثال جہالت، عدم فہم اور فکر و نظر کی زبوں حالی میں اس بہرے اور گونگے آدمی کی ہے جسے تاریکیوں میں بھٹتے رہنے کے لیے چھوڑدیا جائے، ایسا آدمی کبھی بھی سیدھی راہ نہیں پاسکتا اور تاریکیوں سے کبھی بھی نہیں نکل سکتا، اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں اہل کفر کے لے یہ تشبیہ بہت سی آیتوں میں بیان کی ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ جہالت میں پورے طور پر ڈوبے ہوئے ہیں اور فہم وادراک کے تمام راستے ان کے لیے کلی طور پر بند ہیں اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنی مخلوقات کے بارے میں جیسا چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے کفر میں بھٹکتا چھوڑ دیتا ہے۔