سورة الكافرون - آیت 1

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے اے کافرو!

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) محمد بن اسحاق نے سعید بن مینا سے روایت کی ہے کہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی اور کہا، اے محمد ! آؤ ہم تمہارے معبود کی پرستش کریں اور تم ہمارے معبودوں کی پرستش کرو، تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ (قل یایھا الکافرون) نازل فرمائی ایک روایت میں ہے کہ یہ سورت اور سورۃ الزمر کی آیات (٦٤/٦٥/٦٦) قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجاھلون ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیجبطن عملک ولتکونن من الخاسرین، بل اللہ فاعبدوکن من الشاکرین) نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا : اے میرے نبی ! آپ ان کافروں سے جو آپ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی پرستش کیجیے اور وہ آپ کے معبود کی معبود کی عبادت کریں کہہ دیجیے کہ میں اس وقت ہرگز تمہارے معبودوں کی پرستش نہیں کروں گا اور نہ تم میرے اللہ کی پرستش کرو گے، تمہارے بارے میں اللہ کا ایسا ہی فصلہ ہے اور میں مستقبل میں بھی ہرگز تمہارے معبودوں کی پرستش نہیں کروں گا اور نہ تم میرے اللہ کی مستقبل میں پرستش کرو گے، اس لئے کہ میرے رب کا تمہارے بارے میں تمہاری نیت اور عمل کے فساد کے سبب یہی فیصلہ ہے کہ تمہاری موت کفر پر ہو، تاکہ تم جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ان آیات میں تکرار سے مقصود تاکید ہے، تاکہ جن کافروں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یتوں کی پرستش کا مشورہ دیا تھا وہ قطعی طور پر اس بات سے ناامید ہوجائیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بتوں کی عبادت کریں گے۔ حافظ ابن کثیر نے شخی الاسلام ابن تیمیمہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ (لا اعبد ماتعبدون) سے مراد فعل کی نفی ہے، اس لئے کہ یہ جملہ فعلیہ ہے اور (ولا انا عابد ماعبدتم) سے مراد بتوں کی عبادت کو قبول کرنے کی قطعی نفی ہے، اس لئے جملہ اسمیہ کے ذریعہ نفی زیادہ قوی اور موکد ہوتی ہے، ویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتوں کی عبادت واقع ہونے کی نفی کردی اور کسی بھی صورت میں اس کے امکان کی بھی نفی کردی۔ آخری آیت (لکم دینکم ولی دین) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کافروں کے ایمان لانے سے قطعی طور پر ناامید کردیا ہے جن کے ایمان لانے کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خواہش رکھتے تھے اور ان کافروں کو جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتوں کی پرستش کا مشورہ دیا تھا، اس بات سے قطعی طور پر ناامید بنا دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی فاسد و باطل رائے کو مان کر کبھی ان کے بتوں کی پرستش کریں گے چنانچہ وہ مشرکین جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتوں کی پرستش کا مشوہ دیا، سب کی موت کفر پر ہوئی، کوئی میدان بدر میں مارا گیا اور کوئی مکہ میں ہی حالت کفر میں ہلاک ہوا اور اللہ کی بات ان کے بارے میں صادق ہوئی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔