سورة الكافرون - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

سورۃ الکافرون مکی ہے، اس میں چھ آیتیں اور ایک رکوع ہے ۔ تفسیر سورۃ الکافرون نام : پہلی آیت میں لفظ الکافرون آیا ہے یہی اس کا نام رکھ دیا گیا ہے۔ زمانہ نازول : یہ سورت ابن مسعود، حسن اور عکرمہ کے نزدیک مکی ہے، اور قتادہ اور ضحاک کے نزدیک مدنی ہے، اور یہی ابن عباس (رض) کا بھی ایک قول ہے، ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ ﴿ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ Ĭ مکہ میں نازل ہوئی تھی اور ابن الزبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی تھی، صحیح مسلم میں جابر (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ (ﷺ) نے یہ سورت اور ﴿ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ Ĭ طواف کی دونوں رکعتوں میں پڑھی اور ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (ﷺ) نے یہ دونوں سورتیں فجر کی دو رکعتوں میں پڑھی اور طبرانی نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ سورت ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور احمد، ابوداؤد ترمذی اور نسائی وغیرہ نے معاویہ اشجعی (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (ﷺ) نے انہیں سکھایا کہ جب تم بستر پر جاؤ تو ﴿ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ Ĭ پڑھ کر سو جاؤ، اس سورت میں شرک سے برأت ہے۔