سورة البقرة - آیت 55

وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ! ہم ہرگز تیرا یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں، تو تمھیں کڑک نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٠٨: بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ بہت سے مفسرین کی یہ رائے ہے کہ یہ وہی ستر آدمی تھے جنہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ طور پر چلنے کے لیے چنا تھا، اور واپسی میں انہوں نے ر استہ میں یہ مطالبہ کیا تھا، یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف غایت درجہ کی جرات تھی جس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا کہ آسمان سے ایک کڑک والی بجلی اتری جس نے دیکھتے دیکھتے ان کی جان لے لی، لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو دوبارہ زندہ کردیا، یہ اللہ کا ان پر ایک اور احسان تھا۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا جاسکتا، لیکن مومنین صادقین آخرت میں اللہ کو دیکھ سکیں گے، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔