سورة الليل - آیت 1

وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے!

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) اس سورت کی ابتدائی تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لیل و نہار اور اپنی ذات کی قسم کھا کر حضرت انسان سے کہا کہ لوگو ! تمہارے اعمال مختلف قسم کے ہوتے ہیں، کچھ تو اچھے ہوتے ہیں جو دنیا و آخرت میں تم ہاری راحت و سعادت کا سبب بنتے ہیں، اور کچھ ایسے برے ہوتے ہیں جو دونوں جہان میں تمہاری شقاوت وب دبختی کا سبب ہوتے ہیں۔ (وما خلق الذکر والانثی) میں باری تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم اس حیثیت میں کھائی ہے کہ اس نے مرد و زن اور دیگر تمام مذکر و مؤنث کو پیدا کیا ہے اور اس قسم کی عظمت کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام حیوانات کو مذکر و مؤنث بنایا جنہیں دنیا میں باقی رکھنا چاہا اور ہر دو کے اندر شہوت ودیعت کی اور انہیں اتصال و مباشرت کا فطری طریقہ سکھایا، تاکہ ان حیوانات کی نسلیں رہتی دنیا تک باقی رہیں ہر حیوان میں مذکر و مونث پیدا کرنا اور اس نسل کی بقاء کے لئے مذکور بالاتدبیر کرنا یقیناً باری تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لوگو ! رات کی قسم جب وہ اپنی تاریکی کے ذریعہ دن کو ڈھانک لیتی ہے اور دن کی قسم جب وہ پورے طور پر ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کی روشنی سارے عالم کو منور کردیتی ہے اور اس اللہ کی قسم جس نے تمام مذکر و مؤنث کو پیدا کیا ہے : تمہارے اعمال اور تمہاری کوششیں مختلف ہوتی ہیں کچھ تو نیکیاں ہوتی ہیں جو تمہارے سعادت و نیک بختی کا سبب بنتی ہیں اور کچھ گناہ اور معاصی ہوتے ہیں جو تمہاری ہلاکت و بربادی کا سبب ہوتے ہیں۔ سورۃ السجدہ آیت (١٨) میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو یوں بیان فرمایا ہے : (افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستوون) ” کیا وہ جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو“ اور سورۃ الجاثیہ آیت (٢١) میں فرمایا ہے : (ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصالحات سواء محیاھم ومما تھم ساء ما یحکمون) ” کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگ جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے کہ ان کا مرنا اور جینا یکساں ہوجائے برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں۔ “