سورة الفجر - آیت 10

وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ ( کس طرح کیا)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) اللہ نے فرمایا : اور میرے نبی ! آپ نے فرعون کا حال نہیں دیکھا جس نے سر زمین میں سرکشی کی اور اللہ کے بندوں کو قتل کیا اور انہیں نوع بہ نوع عذاب سے دوچار کیا جو شخص اس کی نافرمانی کرتا اور اسے وہ قتل کرنا چاہتا اس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں لوہے کی کھونٹیاں ٹھونک دیتا تھا اور پھر اسے قتل کردیتا تھا، جب اس کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی اور اس کے خلاف حجت تمام ہوگئی تو اللہ نے اسے سمندر میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ (سوط عذاب) سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے اسے دنیا میں جو سخت عذاب دیا، وہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں ایک کوڑے کی مار تھی، بعض نے لکھا ہے کہ اس سے اشارہ اس عذاب کی سختی کی طرف ہے جو اللہ نے اس پر نازل کیا تھا۔