سورة الغاشية - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سورۃ الغاشیہ مکی ہے، اس میں چھبیس آیتیں، اور ایک رکوع ہے تفسیر سورۃ الغاشیہ نام : پہلی آیت میں ہی لفظ ” الغاشیۃ“ آیا ہے، یہی اس سورت کا نام رکھ دیا گیا ہے۔ زمانہ نزول : یہ سورت تمام کے نزدیک مکی ہے۔ ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے ابن عباس اور ابن زبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ الغاشیہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ سورۃ الاعلی کی تفسیر میں مسند احمد اور صحیح مسلم کے حوالے سے نعمان بن بشیر (رض) کی روایت نقل کی جا چکی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین اور جمعہ میں (سبح اسم ربک الاعلی) اور (ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھا کرتے تھے صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد بن بشیر (رض) سے ایک دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ (ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھا کرتے تھے۔