سورة الإنفطار - آیت 1

إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جب آسمان پھٹ جائے گا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ” بعث بعد الموت“ کی وضاحت کی ہے اور انسانوں کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔ چنانچہ آیات (١) سے (٤) تک چار حادثات کا ذکر کیا، جن میں سے تین کا ظہور قیامت سے پہلے دنیا میں پہلے صور کے بعد ہوگا اور چوتھے کا ظہور یعنی قبروں سے مردوں کے زندہ نکالے جانے کا دوسرے صور کے بعد آخرت میں ہوگا ان چاروں حادثات کا بطور شرط ذکر کنے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے بطور جواب یہ بیان فرمایا کہ جب یہ حادثات ظہور پذیر ہوں گے، اس وقت ہر آدمی یقینیط ور پر جان لے گا کہ اس نے دنیا میں کیسے اعمال کئیت ھے نیک آدمی کو معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا عمدہ زاد آخرت اپنے لئے پہلے بھیج دیا تھا اور گناہگار کو بھی خوب معلوم ہوجائے گا کہ کن گناہوں کے ارتکاب کے سبب اسے آج ذلت و رسوائی اور ہلاکت و بربادی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس دن آسمان پھٹ پڑے گا، جیسا کہ سورۃ الفرقران آیت (٢٥) میں آیا ہے : (ویوم تشقق السماء بالغمام) ” اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا“ اور جب ستارے گر کر بکھر جائیں گے جیسے ہار ٹوٹ جاتا ہے تو موتی کے دانے زمین پر بکھر جاتے ہیں اور جب کھارے سمندروں کا پانی میٹھے دریاؤں کے پانی کے ساتھ مل جائے گا، یعنی زمین اتنی شدت کے ساتھ ہلے گی، اور ایسا مہیب زلزلہ واقع ہوگا کہ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور زمین پر موجود پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جائے گا اور قبریں الٹ دی جائیں گی، اور تمام مردے زندہ ہو کر اوپر آجائیں گے۔ جس دن یہ حادثات رونما ہوں گے، اس دن ہر آدمی کو دنیا میں اپنے کئے کا علم ہوجائے گا، ان نیک و بداعمال کا علم ہوجائے گا جو اس نے دنیا کی زندگی میں کئے تھے اور ان اچھے اور برے طور طریقوں کا بھی جنہیں وہ دنیا میں جاری کر آیا تھا اور جن پر لوگ اس کے بعد عمل پیرا ہوئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث ہے کہ جو شخص کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا بھی جو اس پر عمل کریں گے اور جو شخص کوئی برا طریقفہ جاری کرے گا اسے اس کا گناہ ملے گا اور ان لوگوں کا بھی جو اس پر عمل کریں گے۔