سورة النازعات - آیت 37

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پس لیکن جو حد سے بڑھ گیا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) اس دن حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا، اہل محشر مومن و کافر دو گروہوں میں منقسم ہوجائیں گے اور جنت و جہنم کے سوا کوئی تیسرا ٹھکانا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس نے اس دنیا میں اللہ سے سرکشی کی ہوگی، کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہوگا، دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہوگی، اس کی ساری کوششیں اسی کے حصول کے لئے رہی ہوں گی، اور آخرت کو بھول گیا ہوگا اس دن اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے خوف کو اپنے دل میں جگہ دی ہوگی، اور اس ایمان کے ساتھ دنیا میں زندگی گذاری ہوگی کہ اسے اپنے رب کے سامنے میدان محشر میں کھڑا ہونا ہوگا اور اس ایمان کے زیر اثر اس نے اپنے آپ کو خواہش نفس کی اتباع سے دور رکھا ہوگا، اس دن اس کی جائے رہائش جنت ہوگی، جس کی نعمتوں کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کا دل اس کا تصور کرسکتا ہے۔