سورة النسآء - آیت 82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تو کیا وہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے، اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

89۔ منافقین ہی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ لوگ قرآن کریم کو غور سے سنتے، اس کے معانی و مضامین میں تدبر کرتے، تو انہیں معرفت تامہ حاصل ہوجاتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق ہیں اور جو دین لے کر آئے ہیں وہ بھی برحق ہے، اور اس نفاق سے نجات مل جاتی جس نے ان کے دلوں کو فاسد، اور ان کے افکار کو متفن بنا رکھا ہے اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ یہ قرآن برحق ہے اور اللہ کا کلام ہے، اگر غیر اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں اختلاف و اضطراب، اور تعارض ہوتا، خاص طور سے غیبی امور میں، لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں، سیکڑوں غیبی امور سے متعلق تفاصیل ہیں اور مرور زمانہ کے ساتھ ان کی تصدیق و تائید ہی ہوتی جا رہی ہے اس لیے منافقین کو اپنا نفاق چھوڑ کر اس قرآن پر ایمان لے آنا چاہئے،