سورة النبأ - آیت 1

عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) امام شوکانی کے واحدی کے حوالے سے مفسرین کا قول نقل کیا ہے، کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے، کفار مکہ کے سامنے توحید باری تعالیٰ اور بعث بعد الموت کی بات کی اور حقائق سے متعلق قرآنی آیات کی تلاوت کی، تو وہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ محمد کس روز قیامت کی بات کر رہا ہے اور یہ کیسا کلام پیش کرتا ہے؟ ! اللہ تعالیٰ نے (عم یتسآئلون) نازل فرمایا اور استفہامی طریقہ تعبیر استعمال کر کے پہلے مشرکین مکہ کے ذہنوں کو اس بات کی اہمیت کی طرف مبذول کرایا جس کا ذکر ابھی آنے والا ہے، پھر کہا (عن النبا العظیم) یعنی جس بعث بعد الموت اور قیامت کے بارے میں وہ آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ تو بڑا ہی عظیم دن ہوگا اور اس کی خبر بڑی ہی عظیم خبر ہے۔ مجاہد وغیرہ نے ” نباء عظیم“ سے مراد قرآن کریم ہے اور اس پر استدلال آیت (٣) (الذی ھم فیہ مختلفون) سے کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ نے ابتدائے اسلام میں قرآن کریم کے بارے میں ہی اختلاف کیا تھا، کسی نے اسے جادو کسی نے شعر کسی نے کہانت، اور کسی نے اسے اقوام گزشتہ کے قصے کہا تھا ان دنوں ” بعث بعد الموت“ کے انکار پر تو تمام کفار متفق تھے شوکانی لکھتے ہیں کہ ” نباء عظیم“ سے مراد قرآن کریم ہونے کی دلیل سورۃ ص کی آیات (٦٧/٦٨) ہیں جن میں قرآن کریم کو ” نباء عظیم“ کہا گیا ہے۔ جن لوگوں نے ” نباء عظیم“ سے مراد ” بعث بعد الموت“ لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مردوں کا دوبارہ زندہ کیا جانا ہی ہی وہ بات تھی جس کا مشرکین انکار کرتے تھے اور جسے ان کی جاہلانہ عقل قبول نہیں کرتی تھی نیز یہود و نصاریٰ بعث بعدالموت کی کیفیت میں اختلاف کرتے تھے اور کفار عرب میں سے بعض اس کا قطعی انکار کرتے تھے اور بعض کو اس میں شبہ تھا۔ تیسری رائے یہ ہے کہ بعث بعدالموت کے بارے میں پوچھنے والے مومنین اور کفار سبھی تھے، مومنین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزید دینی بصیرت اور یقین حاصل کرنے کے لئے سوال کرتے تھے اور کفار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا مذاق اڑانے کے لئے پوچھتے تھے کہ وہ بعث بعد الموت جس کی تم بات کرتے ہو آخر ہو آخر وہ کب ہوگا ؟!