سورة المرسلات - آیت 12

لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

( یہ سب چیزیں) کس دن کے لیے مؤخر کی گئی ہیں؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) انبیاء و رسل کے لئے فیصلے کا مقرر کیا ہوا وقت، ایک بہت ہی ہیبت ناک اور خطرناک دن تک مؤخر کردیا گیا ہے یہ وہ دن ہوگا جب کافروں کو رسوا کیا جائے گا اور وہ شدید عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے اور مومنوں کی تکریم ہوگی اور انہیں جنت میں داخل کیا کیا جائے اور اس دن آخرت سے متعلق وہ تمام باتیں کھل کر سامنے آجائیں گی جن سے انبیائے کرام اپنی قوموں کو ڈرایا کرتے تھے۔ قرآن کریم نے (لای یوم اجلت) میں استفہام کا اسلوب، اس دن کی ہیبت ناکی کے اظہار کے لئے اختیار کیا ہے، اور پھر کہا ہے : (لیوم الفصل) یعنی انبیاء و رسل کے لئے مقرر کیا ہوا وقت اس دن تک مؤخر کردیا گیا ہے جس دن تمام مخلوقات کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور پھر اس دن کی مزید ہیبت دل میں بیٹھانے کے لئے فرمایا : (وما ادراک ما یوم الفصل) ” تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کا وہ دن کیسا (ہیبت ناک اور خطرناک) ہوگا“ یعنی وہ نہایت ہی خطرناک دن ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں اس فیصلے کے دن کو جھٹلاتے ہیں، ان کے لئے اس دن ہلاکت و بربادی ہوگی، اللہ تعالیٰ نے سورۃ المطففین آیات (10/١١) میں فرمایا ہے : (ویل یومئذللکمکبین الذین یکذبون بیوم الدین) ” اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہوگی جو قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ “