سورة القيامة - آیت 1

لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں!

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) آیات (١/٢) کی ابتدا میں موجود ” لا“ کے بارے میں بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ زائد ہے، اور ” لا اقسم“ کا معنی ’ داقسم“ بتایا ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ ” لا“ زائد نہیں ہے، بلکہ نفی کے معنی میں ہے اور اس کے ذریعہ مشرکین کے ” بعت بعد الموت“ کے بارے میں غلط عقیدے کی نفی کی گئی ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بات ویسی نہیں ہے جیسی مشرکین کہتے ہیں کہ بعث بعد الموت اور قیامت کے دن کے جزا و سزا کا تصور صحیح نہیں ہے۔ میں بعث بعد الموت کے عقیدے کے صحیح ہونے پر قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں اور آدمی کے ’ دنفس لوامۃ“ کی قسم کھاتا ہوں، جو ہمیشہ اللہ کی جناب میں تقصیر پر آدمی کو ملامت کرتا رہتا ہے، اسے بھلائی پر اکساتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اس لئے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ بنی نوع انسان دوبارہ زندہ کئے جائیں گی اور انہیں ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ دونوں آیتوں میں جس بات پر اللہ نے قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ کافرو ! تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے، تم سے ضرور تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور تمہیں سزا دی جائے گی، چونکہ یہ بات سیاق و سباق سے واضح تھی، اسی لئے آیت میں اس کا ذکر صراحت کے ساتھ نہیں کیا گیا ہے۔