سورة المدثر - آیت 11

ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیتیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، جس کا دین حق سے عناد، اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت حد سے تجاوز کرگئی تھی اس واقعہ کو محمد بن اسحاق نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے جو بڑی عمر کا آدمی تھا، اہل قریش سے کہا کہ حج کا موسم آرہا ہے، قبائل عرب کے وفود آئیں گے اور محمد کے دعوئے نبوت کی خبر ان کو پہنچی چکی ہے، اس لئے تم سب کسی ایک بات پر متفق ہوجاؤ جو اس کے بارے میں تم لوگ وفود عرب سے کہو گے لوگوں نے کہا کہ ہم لوگ محمد کو کاہن بتائیں گے، تو اس نے موافقت نہیں کی، لوگوں نے کہا ہم اسے مجنون کہیں گے شاعر کہیں گے اور جادوگر کہیں گے، اس نے کسی رائے سے اتفاق نہیں کیا، بالآخر اس نے خود ہی کہا کہ مناسب تر بات یہی ہے کہ ہم اسے جادوگر کہیں گے، جو اپنے جادو کے ذریعہ آدمی، اس کے باپ، اس کے بھائی، اس کی بیوی، اور اس کے خاندان والوں کے درمیان تفریق کرا دیتا ہے، چنانچہ اسب اسی رائے پر متفق ہوگئے اور قبائل عرب میں سے کوئی قبیلہ ان کے پاس سے گذرتا تو اسے کہتے کہ محمد کی بات نہ سننا، وہ جادوگر ہے، وہ تمہیں مسحور کر دے گا تو ولید کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت بیان کی جیسی کسی کی نہیں کی معلوم ہوا کہ جو بھی حق سے عناد رکھے گا اور اس کی مخالفت کرے گا، اسے اللہ تعالیٰ میں رسوا کرے گا اور آخرت میں اسے بدترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! جس شخص کو میں نے اس کی ماں کے بطن میں تنہا پیدا کیا، نہ اسکے پاس مال تھا اور نہ اولاد تھی اس کو میرے لئے چھوڑ دیجیے، اس سے آپ کا انتقام لینے کے لئے میں کافی ہوں اور جب پیدا ہوا تو میں نے اس کی پرورش کی، اسے مال کثیر دیا اور نرینہ اولاد سے نوازا جو ہر وقت اس کے پاس رہتے ہیں، انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ہے، ان سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے، اور اپنے کاموں میں مدد لیتا ہے میں نے اس کے لئے تمام دنیاوی اسباب مہیا کردیئے، یہاں تک کہ اس کی تمام ضرورتیں اور خواہشات پوری ہونے لگیں مجاہد کا قول ہے کہ ولید کے دس لڑکے تھے ان میں سے خالد، عمار اور ہشام نے اسلام قبول کرلیا تھا حافظ ابن حجر نے ” الاصابہ“ میں لکھا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ خالد اور ہشام نے اسلام قبول کیا اور عمار حالت کفر میں مرا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان تمام دنیاوی نعمتوں کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ میں اسے آخرت کی نعمتوں سے بھی نواز دوں گا ایسا نہیں ہوسکتا، اس کی یہ خواہش ہرگز پوری نہیں ہوگی، اس لئے کہ اس نے ہماری آیتوں کی صداقت کا یقین کرنے کے بعد ان کا انکار کردیا اور حق کو پہچاننے کے بعد اسے قبول نہیں کیا، میں اسے بدترین عذاب سے دوچار کروں گا ترمذی نے ابو سعید خدری (رض) سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ اسے جہنم میں آگ کے پہاڑ پر چڑھنے کا حکم دیا جائے گا، جب بھی چڑھنے کی کوشش کرے گا گر جائے گا اور وہ ہمیشہ اس حالت میں رہے گا۔