سورة المعارج - آیت 43

يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جس دن وہ قبروں سے تیز دوڑتے ہوئے نکلیں گے، جیسے وہ کسی گاڑے ہوئے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٣) اس دن ان کا حالیہ ہوگا کہ وہ اپنی قبروں سے نکل کر، پکارنے والے کی آواز کی طرفاس طرح تیزی کے ساتھ دوڑیں گے کہ جیسے کوئی گم گشتہ راہ نشان راہ کو دیکھ کر اس کی طرف تیزی کے ساتھ دوڑتا ہے۔ ان کی نگاہیں ذلت و رسوائی سے جھکی ہوں گی اور ان کا پورا وجود نشان راہ کو دیکھ کر اسکی طرف تیزی کے ساتھ دوڑتا ہے، ان کی نگاہیں ذلت و رسوائی سے جھکی ہوں گی اور ان کا پورا وجود ذلت کے بوجھ تلے دبا ہوگا، آنکھیں جھکی ہوں گی، جسم و جان کی ہر حرکت بند ہوگی، اور زبان گنگ ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا۔ وباللہ