سورة المعارج - آیت 5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پس تو صبر کر، بہت اچھا صبر۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی ہے کہ دعوت کی راہ میں مشرکین کی جانب سے آپ کو جو تکلیف پہنچتی ہے اس پر صبر جمیل سے کام لیجیے لوگوں کے سامنے پریشانی اور ناراضگی کا اظہار نہ کیجئے اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے ان تکلیفوں کا شکوہ نہ کیجیے مشرکین چونکہ یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اس لئے بعث بعد الموت اور قیامت کے دن کے عذاب کو اپنی بدبختی کی وجہ سے بہت دور سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک تو اس کا دن بہت ہی قریب ہے، اس لئے کہ اس کا آنا یقینی ہے اور ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے۔ ہم اپنی صفت رحمت اور حلم کی وجہ سے ان پر عذاب لانے میں جلدی نہیں کر رہے ہیں۔