سورة القلم - آیت 21

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) باغ کے انجام سے بے خبر، انہوں نے صبح سویرے ایک دوسرے کو پکارا اور کہا کہ اگر تمہیں اپنے باغ کا پھل حاصل کرنا ہے تو جلد ہی وہاں چلے چلو، چنانچہ وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہئے چلے، تاکہ کوئی فقیر و محتاج جان نہ جائے اور ان کے ساتھ لگ نہ جائے جیسا کہ ان کے باپ کے زمانے میں ہوتا تھا، یعنی ان کی نیت خراب ہوگئی، انہوں نے اس مال سے اللہ کا حق ادا کرنا نہیں چاہا۔ آیت (٢٥) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ باغ کی طرف تیزی، غصہ او اس پختہ ارادہ کے ساتھ چلے کہ فقیروں کو ہرگز نہیں دینا ہے، وہ اپنے خیال کے مطابق باپ کے مرنے کے بعد اس بات پر قادر ہوگئے تھے کہ اس میں سے اللہ کے نام کا کوئی حصہ نہیں نکالیں گے۔