سورة الملك - آیت 13

وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور تم اپنی بات کو چھپاؤ، یا اسے بلند آواز سے کرو (برابر ہے)، یقیناً وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والاہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ دلوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، اس کے لئے ظاہر و باطن یکساں ہے، وہ تو ان نیتوں اور ارادوں تک کو جانتا ہے جو سینوں میں چھپے ہوتے ہیں تو پھر وہ ان اقوال و افعال کو کیسے نہیں جانے گا جو سنے اور دیکھے جاتے ہیں۔ آیت (١٤) میں اپنے علم کے کمال و شمولیت پر استدلال کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے اسے اپنی مخلوقات کی خبر کیسے نہیں ہوگی، وہ تو اپنے بندوں کے دلوں میں چھپی باتوں تک کو جانتا ہے اور ان کے تمام اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔