سورة التحريم - آیت 5

عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(4) اس آیت کریمہ میں حفصہ، عائشہ اور دیگر امہات المومنین کو مزید دھمکی دی گئی ہے اور انہیں ڈرایا گیا ہے کہ اگر تم میرے نبی کو اذیت پہنچاؤ گی تو ممکن ہے وہ تم سب کو طلاق دے دیں اور ان کا رب تمہارے بدلے انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا کرے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم کیا اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعدتمام امہات المومنین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راضی کیا، آپ کا غایت و رجہ ادب و احترام کیا اور بہترین مسلمان عورتیں بن گئیں، اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں طلاق نہیں دی، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تک دنیا میں رہے، وہ سب آپ کی بیویاں ہیں، اور آخرت میں بھی آپ کی بیویاں ہوں گی۔