سورة المنافقون - آیت 9

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(7) گزشتہ آیتوں میں منافقین کے ان برے عادات و خصائل کا ذکر ہوا جن کے نتیجے میں وہ لوگ اللہ کی یاد سے غافل ہوگئے تھے اور اب مومنوں سے کہا جا رہا ہے کہ دیکھو تم ان کی طرح نہ ہوجاؤ اور اپنے مال و دولت اور اولاد کی اندھی محبت میں اس طرح نہ کھو جاؤ کہ اللہ کی یاد سے غافل ہوجاؤ، جو دنیا و آخرت میں ہر خسران ہلاکت کا سبب اول ہے۔ آیت (10) میں کارہائے خیر کے لئے مزید تاکید کے طور پر اللہ نے فرمایا کہ مسلمانو ! ہم نے تمہیں جو روزی دی ہے، اس میں سے خیر کے کاموں میں خرچ کرتے رہو، قبل اس کے کہ تمہیں موت آجائے اور تم کف افسوس ملتے رہ جاؤ اور اس وقت تمنائے مستحیل کرتے ہوئے کہنے لگو کہ اے رب ! تو مجھے تھوڑی سی مہلت دیدے تاکہ صدقہ خیرات کرلوں اور نیکو کاروں میں سے ہوجاؤں۔ آیت (11) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی یہ تمنا ہرگز پری نہیں ہوگی، اس لئے کہ اللہ کا نظام ازلی ہے کہ کسی کی موت ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ٹالی جاتی آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ لوگو ! اللہ تمہارے کارناموں سے اچھی طرح واقف ہے، اس لئے قیامت کے دن وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ مفسر ال کیا الہراسی نے لکھا ہے : (وانفقوا من مارزقناکم من قبل ان یاتی احدکم الموت) آیت دلیل ہے کہ زکاۃ واجب ہوجانے کے بعد فوراً ادا کرنا ضروری ہے۔ ترمذی نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس مال ہو اور وہ حج نہیں کرے گا، یا زکاۃ واجب ہوجانے کے بعد ادا نہیں کرے گا، تو وہ موت کے وقت دوبارہ دنیا میں لوٹنے کی تمنا کے گا پھر انہوں نے یہی آیت پڑھی۔ وباللہ التوفیق۔