سورة المنافقون - آیت 5

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب ان سے کہا جائے آؤ اللہ کا رسول تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ منہ پھیر لیں گے، اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(4) جہجاہ غفاری اور سنان انصاری کے درمیان ” مریسیع“ کنواں کے پاس جھگڑے کے بعد، عبداللہ بن ابی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مہاجرین صحابہ کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، اس کی اطلاع جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہوگئی، تو کچھ لوگوں نے عبداللہ بن ابی کو مشورہ دیا۔ کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائے، معافی مانگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کرے کہ آپ اس کے لئے اللہ سے طلب مغفرت کی دعا کریں تو اس نے کبر و غرور کے ساتھ اپنی گردن پھیر کر کہا کہ ” تم لوگوں نے مجھے ایمان لانے کو کہا میں ایمان لے آیا، زکاۃ دینے کو کہا میں نے زکاۃ دی، اب تو محمد کو صرف سجدہ کرنا ہی باقی رہ گیا ہے“ تو ذیل کے کی چاروں آیتیں نازل ہئیں جن میں منافقفین کے اس سردار اور اسی جیسے دیگر منافقوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آیت (5) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر معذرت پیش کرو، تاکہ وہ تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں، تو وہ تکبر کے ساتھ اپنی گردنوں کو جھٹک کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے سے انکار کردیتے ہیں۔ آیت (6) میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کفر و استکبار کا نتیجہ یہ بیان فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ چاہے ان کے لئے دعائے مغفرت کریں یا نہ کریں، اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا، اس لئے کہ وہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے اور منافقین اپنی سرکشی اور گناہوں کے سبب بدرجہ اولیٰ فاسق ہیں، بالخصوص عبداللہ بن ابی جو جھوٹا ہے جس کے انگ انگ سے نفاق اور شارت پھوٹتی ہے۔