سورة المجادلة - آیت 6

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۚ أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا، پھر انھیں بتائے گا جو انھوں نے کیا۔ اللہ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ اسے بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(5) اس آیت کا تعلق اوپر والی آیت سے ہے اور مفہوم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے متعین کردہ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ دنیا میں رسوا کرے گا اور آخرت میں ان کو دردناک عذاب دے گا، جب اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا اور انہیں ان کے کئے کی خبر دے گا انہوں نے دنیا میں ان گناہوں کا ارتکاب کیا اور بھول گئے، لیکن اللہ نہیں بھولا تھا، اس نے تو ایک ایک ذرہ کو لکھ رکھا ہے کوئی خبر اس کے احاطہ علم سے خارج نہیں ہے۔