سورة الواقعة - آیت 60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ہم نے ہی تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٩) مندرجہ ذیل تین آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعث بعد الموت کی حقیقت کو ہی ایک دوسرے پیرائے میں باور کرایا ہے فرمایا کہ ہم نے تم میں سے ہر ای کے لئے موت کو حتمی قرار دیا ہے، جو اس بات کی خبر دیتی ہے کہ تم ہمارے قبضہ سے باہر نہیں ہو، اور یہ کہ تم بے کار پیدا نہیں کئے گئے تھے، اور نہ یہ بات صحیح ہے کہ تم مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور دوبارہ اٹھائے نہیں جاؤ گے، بلکہ تم دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور تمہارے اعمال کا تم سے حساب لیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ وہ تمہیں ہلاک کر کے تمہارے جیسے دوسرے لوگوں کو تمہاری جگہ لے آئے اور تمہیں دوسری شکلوں اور صورتوں میں پیدا کرے۔ حسن کہتے ہیں کہ وہ تمہیں بندروں اور سوروں کی شکل میں پیدا کرے۔ تو جو ذات ان سب باتوں پر قادر ہے، وہ آخرت میں تمہیں دوبارہ زندہ کرنے سے کیسے عاجز درماندہ رہے گی؟! اور اے اہل قریش ! تم اپنی پہلی تخلیق کو کیوں بھول جایا کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے منی کے ایک قطرہ کو رحم مادر میں پہنچایا، پھر اسے منجمد خن بنایا، پھر اسے گوشت کالوتھڑا بنایا اور پھر ایک مکمل انسان بنا کر رحم مادر سے باہر نکالا، تو تم اپنی تخلیق ثانی کو تخلیق اول پر قیاس کیوں نہیں کرتے، کیوں تمہاری عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ جو قادر مطلق ذات تمہیں پہلی بار ایک حقیر قطرہ سے پیدا کرنے پر قادر تھی، وہ تمہیں دوبارہ با آسانی پیدا کرے گی، اس میں حیرت و استعجاب کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔