سورة الواقعة - آیت 1

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جب وہ واقع ہونے والی واقع ہوگی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) ” الواقعہ“ روز قیامت کا نام ہے، جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس دن کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور عربی قاعدہ کے اعتبار سے کلمہ ” اذا“ کا ماضی کے صیغہ ” وقعت“ کے پہلے آنا بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کہ قیامت کے دن کے آنے میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے۔ دونوں آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ جب بعث بعدالموت کے لئے اسرافیل (علیہ السلام) آخری صور پھونکیں گے، تو پھر اس کے بعد قیامت کا جھٹلانا ناممکن ہوجائے گا حسن وقتادہ اور زجاج نے (لیس لوقعتھا کاذبۃ) کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جب قیامت آجائے گی تو کوئی اسے روک نہیں سکے گا۔