سورة الرحمن - آیت 37

فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر جب آسمان پھٹ جائے گا، تو وہ سرخ چمڑے کی طرح گلابی ہوجائے گا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٧) جب قیامت واقع ہوگی تو آسمان پھٹ پڑے گا، اس کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، اور پگھل کرتیل کے مانند بہنے لگے گا اور اس کا رنگ پگھلے ہوئے سیسہ کی طرح سرخی مائل گدلا ہوگا جیسا کہ سورۃ المعارج آیت (٨) میں آیا ہے : (یوم تکن السماء کالمھل) ” جس دن آسمان تلچھت کے مشابہ ہوجائے گا“ اور قیامت کی یہ منظر کشی یقیناً ایک نعمت ہے کہ آدمی اس دن کی ہولناکیوں کو یاد کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کرسکتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن کنعمتوں کا انکار کرو گے؟!