سورة الرحمن - آیت 7

وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور آسمان، اس نے اسے اونچا اٹھایا اور اس نے ترازو رکھی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) اللہ تعالیٰ نے زمین میں پائی جانے الی مخلوقات کے لئے آسمان کو چھت بنا کر اونچا رکھا ہے، جو اللہ کی مرضی کے تابع ہے اور مخلوقات کے سروں پر نہیں گرتا۔ اور اس نے اپنے بندوں کے درمیان تمام اقوال و افعال میں عدل و انصاف کو واجب قرار دیا ہے۔ آیت میں ” میزان“ سے مراد صرف ترازو ہی نہیں ہے، بلکہ ہر وہ پیمانہ مراد ہے جس سے کسی چیز، زمین، مقدار اور دنیا میں پائی جانے والی دیگر ماوی اور معنوی اشیاء اور حقائق کی پیمائش کی جاتی ہے اور جن کے ذریعہ بنی نوع انسان آپس میں عدل و انصاف قائم کرتے ہیں اور ان میں نقص و زیادتی کر کے عدل و انصاف کو پامال کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ آیت میں ” میزان“ سے مقصود ” عدل“ ہے اور اس کی دلیل آیت (٨) ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے میزان کو اس لئے نازل کیا ہے تاکہ لوگ حقوق و معاملات میں حد سے تجاوز نہ کریں، ور نہ فساد کے دروزاے کھل جائیں گے، کیونکہ جب کسی سوسائٹی سے عدل و انصاف ختم ہوجاتا ہے، تو ہر طرف انار کی پھیل جاتی ہے اور زندگی کے ہر گوشے میں فتنہ و فسادد عام ہوجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بطور مزید تاکید آگے کی آیت (٩) میں فرمایا کہ لوگ ! وزن کرتے وقت عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور میزان کو برابر رکھو، کم نہ تولو، شوکانی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے میزان کو برابر رکھنے کا حکم دیا، پھر زیادہ تول کر اور ترازوں کو جھکا کر حد سے تجاوز کرنے سے روکا اور پھر کم اور ناقص وزن کرنے سے منع فرمایا، گویا ہر حال میں عدل و انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے۔