سورة القمر - آیت 6

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُّكُرٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جا رہا ہے کہ اگر کفار مکہ کو لہو و لعب چھوڑ کر فکر آخرت کی توفیق نہیں ہو رہی ہے، تو آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے اور اس دن کا انتظار کیجیے جب انہیں دوبارہ زندہ کر کے میدان محشر میں حساب و کتاب کے لئے اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ گھڑی ان کے لئے بڑی ہی مشکل ہوگی، ان کی آنکھیں ذلت و رسوائی کے مارے نیچے جھکی ہوں گی اور جب اللہ تعالیٰ یا فرشتہ انہیں پکارے گا تو وہ اپنی قبروں سے ٹڈی دل کی طرح نکل کر چاروں طرف پھیل جائیں گے اور تیزی کے ساتھ پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑ پڑیں گے اور کفار اپنے اعمال کو یاد کر کے اور اس دن کے حقائق و مناظر اور میدان محشر کی ہولناکیوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی سخت دن ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس بات کی نسبت کافروں کی طرف کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ دن مومنوں کے لئے سخت نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المدثر آیات (٩/١٠) میں فرمایا ہے : (فذلک یومئذیوم عسیر، علی الکافرین غیر یسیر) ” پس وہ دن بڑا سخت دن ہوگا، جو کافروں پر آسان نہ ہوگا۔ “