سورة آل عمران - آیت 193

رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے ہمارے رب! بے شک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے، اے ہمارے رب! پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

130۔ دعا کا یہ انداز اللہ تعالیٰ کے لیے کمالِ خشوع و خضوع، اور قبولیت دعا کے لیے انتہائے رغبت کے اظہار کے لیے ہے اور منادی سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہے، اور لفظ منادی کا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکار پکار کر اسلام کی دعوت، پوری تندہی اور جانفشانی کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کردی۔