سورة النجم - آیت 33

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر کیا تو نے دیکھا اسے جس نے منہ موڑ لیا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) مجاہد، ابن زید اور مقاتل کا قول ہے کہ یہ آیتیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، اس نے پہلے اسلام کو قبول کرلیا تھا، لیکن بعض مشرکین نے اسے اپنا آبائی دین چھوڑنے کی عار دلائی، تو اسلام سے پھر گیا اور دوبارہ مشرکوں میں شامل ہوگیا۔ ابن جریر کی روایت ہے کہ جس شیطان قرشی نے اسے مرتد ہونے پر ابھارا تھا، اس نے اس سے کہا کہ اگر تمہیں قیامت کے دن کے عذاب کا خوف ہے تو مجھے روزانہ اتنا مال دو، میں تمہاری طرف سے عذاب کا بوجھ اٹھا لوں گا، چنانچہ اس نے اسے روزانہ مال دینا شروع کیا اور پھر ایک مدت کے بعد بند کردیا۔ اسی شیطان قرشی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت (٣٥) میں فرمایا کہ کیا اس کے پاس علم غیب ہے، جس کے ذریعہ اسے معلوم ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کی طرف سے عذاب جھیل لے گا یہ اس کی افترا پردازی ہے۔ کیا جو کچھ صحف موسیٰ یعنی تو رات میں اور صحف ابراہیم میں آیا ہے، اسے اس کی خبر ہے، ان صحیفوں میں تو یہ ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا اور ہر انسان کو صرف اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ بعض دیگر آیات اور احادیث کے ذریعہ اس عموم کی تخصیص ہوچکی ہے۔ جیسے سورۃ الطور آیت (٢١) میں آیا ہے : (الحقنا بھم ذریتھم) ” ہم ان جنتیوں کے پاس ان کی اولاد کو پہنچا دیں گے۔“ اور حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انبیاء اور فرشتوں کی شفاعت قبول کرے گا اور یہ بھی آیا ہے کہ زندہ آدمی مردہ کے لئے دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے گا۔ حافظ ابن کثیر نے آیت (٣٩) کے ضمن میں لکھا ہے کہ امام شافعی اور ان کے شاگردوں نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ قرأت کا ثواب مردوں کو نہیں پہنچتا ہے اس لئے کہ وہ ان کا اپنا عمل نہیں ہوتا ہے اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کو نص یا اشارہ کس طرح بھی اس کی ترغیب نہیں لدائی ہے اور نہ صحابہ کرام نے ایسا کیا اگر یہ کام اچھا ہوتا تو صحابہ کرام نے ضرور کیا ہوتا ثواب کے کاموں میں نص پر اکتفا کیا جاتا ہے ان میں قیاس اور رائے پر عمل نہیں ہوتا ہے۔ البتہ دعا اور صدقہ کا ثواب مردہ کو پہنچتا ہے، کیونکہ یہ نص سے ثابت ہے امام مسلم نے اپنی کتاب ” الصحیح“ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے، صرف تین ذریعوں سے اس کو ثواب ملتا رہتا ہے : نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے، صدقہ جاریہ اور علم جس سے لوگ نفع حاصل کریں۔ اس لئے کہ درحقیقت یہ تینوں کام اس کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہیں اور اس کے عمل کا ایک حصہ ہیں، جیسا کہ عائشہ (رض) کی اس حدیث میں آیا ہے جسے نسائی نے روایت کی ہے، کہ سب سے پاکیزہ روزی وہ ہے جو آدمی کی اپنی کمائی ہو اور اس کا یٹا اس کی کمائی ہے اور صدقہ جاریہ جیسے وقف وغیرہ اس کے اپنے عمل کا حصہ ہے اور جس علم کو وہ لوگوں میں پھیلاتا ہے وہ بھی اس کے عمل کا حصہ ہے۔