سورة النجم - آیت 30

ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یہ علم میں ان کی انتہا ہے، یقیناً تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو راستے پر چلا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٩) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کا منتہائے علم بھی دنیاوی اغراض و مقاصد ہیں، اس کے سوا نہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے اور جس کا مبلغ علم دنیائے دنی اور اس کی لذتیں ہوں، اسے اس کے حال پر ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ کے رب کو خوب معلوم ہے کہ راہ حق پر کون گامزن ہے اور ضلالت کی وادیوں میں کون بھٹک رہا ہے اور وہ روز قیامت ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دے گا۔