سورة الطور - آیت 1

َالطُّورِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

قسم ہے طور کی!

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) مندرجہ ذیل چھ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چند مخلوقات کی قسم کھا کر سننے والوں کے ذہنوں میں اس بات کی اہمیت بٹھانی چاہی ہے جس پر قسم کھائی ہے اور جس کا ذکر آیت (٧) میں آیا ہے، یعنی عذاب جہنم جو یقینی امر ہے اور جو لوگ اس کے حقدار ہوں گے ان پر وہ عذاب ضرور نازل ہوگا، یہ ایک ایسی بات ہے، جس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ” طور“ سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں، اور بالعموم اس کا اطلاق ہرے بھرے پہاڑ پر ہوتا ہے صحرائے سیناء کے جس پہاڑ پر موسیٰ (علیہ السلام) رب العالمین سے ہم کلام ہوئے تھے، اسے ” طور سینا“ کہا جانے لگا ہے اور جو تجلی الٰہی کی تاب نہ لا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ (وکتاب مسطور) سے مراد یا تو قرآن کریم ہے، یا لوح محفوظ یا تمام آسمانی کتابیں (رق“ اس باریک چمڑے کو کہتے ہیں جسے قدیم زمانے میں کاغذ کے طور پر لکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور (والبیت المعمور) سے مراد وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان پر پایا جاتا ہے اور جسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کی رات میں دیکھا تھا اور دیکھا تھا کہ روزانہ ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں اور دوبارہ اس سے باہر لوٹ کر نہیں آتے ہیں، فرشتے اس گھر کا اسی طرح طواف کرتے ہیں جس طرح اہل زمین خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ساتویں آسمان پر اسی بیت معمور سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا تھا اور یہ بیت معمور بالکل کعبہ کے سامنے ہے اور اسی طرح کا ایک گھر ہر آسمان پر پایا جاتا ہے، جس کے اردگرد اس آسمان پر رہنے والے عبادت کرتے ہیں، آسمان دنیا کے گھر کا نام ” بیعت العزۃ“ ہے۔ بعض لوگوں نے (والبیت الممعمور“ سے مراد خانہ کعبہ لیا ہے، پہلی تفسیر کے مطابق وہ گھر فرشتوں کی عبادت سے آباد ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق حج اور عمرہ کرنے والوں، طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور دیگر عبادت گذاروں سے آباد رہتا ہے۔ صاحب محاسن التنزیل نے دوسری تفسیر کو سورۃ التین کی دوسری اور تیسری آیات (وطور سینین، وھذا البلد الامین) کی روشنی میں ترجیح دی ہے، یعنی وہاں طور سینا کے ساتھ بلد امن ” مکہ مکرمہ“ کا ذکر آیا ہے، اس لئے یہاں بھی طور کے ذکر کے بعد ” بیت معمور“ سے مراد خانہ کعبہ ہے جو مکہ میں ہے، کیونکہ قرآن کریم کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے۔ (سقف مرفوع“ سے مراد آسمان ہے اور چونکہ وہ زمین کے لئے چھت کے مانند ہے، اس لئے اسے چھت سے تعبیر کیا گیا ہے اور ” بحر مسجور“ سے مراد یا تو پانی سے بھرا ہوا سمندر ہے، یا یہ کہ جب قیامت آئے گی تو سمندروں کا پانی آگ بن جائے گا۔ (مسجور“ کے کئی دیگر معانی بھی بیان کئے گئے ہیں، بعض نے کہا ہے کہ وہ ” فارغ“ یعنی خالی کے معنی میں ہے، بعض نے اس کا معنی ” مفجور“ کیا ہے، یعنی سارے سمندر پھٹ پڑیں گے، میٹھا پانی کھارے پانی میں مل جائے گا امام شوکانی نے دوسرے معنی کو ترجیح دیا ہے، یعنی اللہ نیاس سمندر کی قسم کھائی ہے جس کا پانی قیامت کے دن آگ ہوجائے گا۔