سورة ق - آیت 22

لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بلا شبہ یقیناً تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کردیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٤) اس دن دنوں اور انسانوں سے کہا جائے گا کہ تم سب یوم آخرت اور اس کی ہولناکیوں سیغافل، اور دنیا اور اس کی لذتوں میں مشغول تھے، تو آج ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا ہے، اب تم ہر چیز کو اپنے سامنے عیاں پا رہے ہو، مجاہد نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ آج تمہاری نظر تمہارے میزان عمل پر ایسی لگی ہے کہ ہٹتی نہیں ہے، تمہاری بینائی میں تیزی آگئی ہے، بڑے غور سے دیکھ رہے ہو کہ تمہاری نیکیوں کاپلڑا کہیں ہلکا تو نہیں ہو رہا ہے۔