سورة الفتح - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ کے نام سے جو بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سورۃ الفتح مدنی ہے، اس میں انتیس آیتیں، اور چار رکوع ہیں تفسیر سورۃ الفتح نام : آیت (١) (انا فتحنا لک فتحا مبینا) سے ماخودذ ہے۔ زمانہ نزول : قرطبی لکھتے ہیں کہ یہ سورت تمام کے نزدیک مدنی ہے، ابن عباس اور ابن الزبیر کا بھی یہی قول ہے ابن اسحاق، حاکم اور بیہقی نے مسور بن مخرمہ اور مرد ان کا قول نقل کیا ہے کہ پوری سورۃ الفتح مکہ اور مدینہ کے درمیان صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں قتادہ سے روایت کی ہے انہوں نے کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا کہ (انا فتحنا لک فتحامبینا) سے (فوزا عظیمات) تکح دیبیہ سے واپسی کے وقت نازل ہوئی، جب صحابہ کے دل غم و الم سے بھرے تھے اور انہوں نے عمرہ کی قربانی حدیبیہ میں ہی کردی تھی، تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے اوپر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا و فیہما سے زیادہ بہتر ہے۔ محمد بن سعد نے لکھا ہے کہ وہ جگہ ” ضجنان“ ہے جہاں یہ سورت نازل ہوئی تھی سیوطی نے ” الا کلیل“ میں لکھا ہے کہ وہ جگہ ” کراع الغمیم“ تھی اور ابو معسر نے اسے حجفہ بتایا ہے حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ تینوں جگہیں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ سورت رسول ال لہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت نازل ہوئی جب ذی القعدہ ٦ ھ میں آپ حدیبیہ سے مدینہ واپس آرہے تھے مشرکین نے آپ کو عمرہ ادا کرنے کے لئے مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا تھا اور بالاخر بات مصالحت پر جا کر ختم ہوئی تھی، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سال مدینہ واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آ کر عمرہ کریں اکثر صحابہ کرام کو اس صلح سے بہت تکلیف ہوئی، جن میں سرفہرست عمر (رض) تھے معاہدہ ہوجانے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے حدیبیہ کے مقام پر ہی قربانی کر کے اپنے بال منڈوا لئے اور مدینہ کی طرف لوٹ گئے، واپسی میں یہ سورت اس جگہ نازل ہوئی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو ” فتح مبین“ سے تعبیر کیا ہے اور سیرت نبوی کے اوراق شاہد ہیں کہ یہ صلح مسلمانوں کے حق میں نتائج کے اعتبار سے زبردست فتح ثابت ہوئی، امام بخاری نے براء بن عازب (رض) سے روایت کی ہے کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح کہت یہو (اور فتح مکہ یقیناً فتح تھی) لیکن ہم لوگ یوم حدیبیہ کے بیعت رضوان کو فتح کہتے ہیں الحدیث چنانچہ آنے والے دنوں میں صلح کے مندرجہ ذیل نتائج ظاہر ہوئے : ١۔ یہ صلح درحقیقت اہل قریش اور دیگر کفار عرب کی جانب سے مدینہ منورہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت و سیادت میں موجود اسلامی حکومت کا پہلا اعتراف تھا۔ ٢۔ یہ پہلا موقع تھا جب اہل قریش نے یہ بات مان لی تھی کہ مسلمان بھی دیگر عربوں کی طرح خانہ کعبہ کی زیارت کا حق رکھتے ہیں۔ ٣۔ صلح کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ دس سال تک فریقین میں جنگ نہیں ہوگی اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے کھل کر اسلام کی تبلیغ کی اور امام زہری کے قول کے مطابق تین سال کے اندر اسلام اتنی تیزی سے پھیلا کہ فتح مکہ کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دس ہزار مجاہدین موجود تھے۔ ٤۔ صلح کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے اطمینان کی سانس لی اور مسلم سوسائٹی کی جڑوں کو استوار کرنے میں لگ گئے اور اسلام کا دارالسلطنت (مدینہ) ایک مستحکم و مضبوط قلعہ اسلام بن کر ابھر آیا۔ ٥۔ اہل قریش اور جنوب کے قبائل عرب کی طرف سے مطمئن ہوجانے کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شمال اور وسط عرب کی طرف توجہ کی پہلے یہودیوں کا دوسرا قلعہ خیبر مسلمانوں کے قبضے میں آیا، پھر فدک، وادی القریٰ، تیما اور تبوک کی یہودی بستیاں ایک ایک کر کے مسلمانوں کے تابع فرمان ہوگئیں۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صلح حدیبیہ میں وہ کچھ ملا جو کسی غزوہ میں نہیں ملا : ١۔ اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے۔ ٢۔ بیعت رضوان صحابہ کرام کے لئے ایک بہت بڑی نعمت تھی۔ ٣۔ مسلمان خیبر کی کھجوروں کے مالک بن گئے۔ ٤۔ قربانی کے جانور حلال ہونے کی جگہ پہنچ گئے۔ ٥۔ اہل روم کو فارس والوں پر غلبہ حاصل ہوا، جس کے سبب مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ امام ابن القیم نے اپنی کتاب ” زاد المعاد“ میں صلح حدیبیہ کی ان عظیم حکمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ صلح حدیبیہ کی مذکور بالا عظیم فائدوں کی وجہ سے دو سال کے اندر ہی اہل قریش اور دیگر مشرکین کی قوت از خود جواب دے گئی، اور اسلام ایک عظیم قوت بن کر ابھرا آیا، جس کا سب سے پہلا اثر فتح مکہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔