سورة الدخان - آیت 10

فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦) بخاری، مسلم، امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے مختلف سندوں کے ساتھ عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ جب اہل قریش کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کبرد عناد بڑھتا گیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی کہ اے اللہ ! انہیں قوم یوسف کی طرح سات سال کی قحط سالی میں مبتلا کر کے میری ان کے خلاف مدد فرما۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ لوگوں نے ہڈیانں، چمڑے اور مردار جانور تک کھائے اور مارے بھوک کے جب آسمان کی طرف دیکھتے تو ان کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے (فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین) نازل کیا اور جب حالات کی سختی اور بڑھتی تو ابوسفیان نے کہا، اے محمد ! تم ہمیں طاعت و صلہ رحمی کی طرف بلاتے ہو اور تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے، اللہ سے دعا کرو کہ یہ قحط سالی ختم ہوجائے، تو اللہ نے (انا کاشفوا العذاب قلیلاً انکم عائدون) نازل کیا، لیکن جب قحط سالی دورہو گئی اور ان کا کبرو عناد پہلے سے زیادہ ہوگیاتو اللہ تعالیٰ نے (یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون) نازل فرمایا اور میدان بدر میں ان سے انتقام لے لیا۔ آیت (١٠) میں جس دھواں کا ذکر آیا ہے، اس کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں، ایک تو یہی جواد پر گذر چکا ہے کہ اس سے مراد دھواں کی وہ کیفیت ہے جو قحط سالی کے دنوں میں بھوک کی شدت سے اہل مکہ کی آنکھوں کے سامنے پیدا ہوتی تھی۔ اس قول کے مطابق وہ دن گذر گیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کی دس نشانیوں میں ایک نشانی ہے، اور چالیس دن تک باقی رہے گا۔ اس قول کے مطابق وہ دن ابھی نہیں آیا ہے۔ علی، ابن عباس، حذیفہ، اور تابعین کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ انس سے مراد فتح مکہ کا دن ہے۔ شوکانی نے تینوں اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ صیحین کی روایت کے مدنظر راجح پہلا قول ہے، اور یہ بات اس کے منافی نہیں ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی میں سے ایک نشانی دھواں ہے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، اور نہ اس کے منافی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک دھواں نظر آیا تھا، جسے ابن سعد نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، جس کی سند محل نظر ہے، اور جس کے پیش نظر ابوہریرہ نے سمجھا کہ اس آیت میں ” دھواں“ سے مراد وہی فتح مکہ کے دن کا دھواں ہے۔ مفسر ابوالسعود نے بھی پہلے قول کو ترجیح دیا ہے۔ آیت (١٢) میں اللہ تعالیٰ سے عذاب دور کرنے کی جو دعا کی گئی ہے، وہ پہلے قول کے مطابق قحط سالی دور کرنے کے لئے کفار مکہ کی دعا ہے اور دوسرے قول کے مطابق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کفار و مشرکین کریں گے۔