سورة الزخرف - آیت 1

م

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

حۤمۤ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تفسیر سورۃ الزخرف نام : آیت (٥٣) (وزخرفا وان کل ذلک لما متاع الحیاۃ الدنیا) الآیۃ سے ماخوذ ہے، صاحب محاسن التنزیل نے مہایمی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس سورت کے نام کے لئے اس لفظ کو اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ آیت دنیا کی خست و دناءت اور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دنیا اپنے رب کی نگاہ میں مبغوض ہے، اس لئے فی الواقع یہ اس کے دشمنوں ہی کی جگہ ہے۔ زمانہ نزول : قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ سورت بالاجماع مکی ہے۔ ابن عباس (رض) کا یہی قول ہے۔ اس کے مضامین بتاتے ہیں کہ یہی بھی انہی دنوں نازل ہوئی ہوگی جب المومن، حم السجدہ اور الشوریٰ نازل ہوئی تھیں۔ (١) یہ حروف مقطعات ہیں اور ان کا معنی و مفہوم اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔