سورة الشورى - آیت 51

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بے شک وہ بے حد بلند، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

مفسرین اس آیت کا سبب نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر تم نبی ہو تو جس طرح موسیٰ نے اللہ سے بات کی تھی اور طور پر اس کی تجلی کا نظارہ کیا تھا، تم بھی اس سے بات کر کے ہمیں دکھاؤ، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ کسی انسان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو، البتہ اپنی پغیام رسانی کے لئے جسے اختیار کرلیتا ہے اس کے پاس اپنی وحی بھیجتا ہے یعنی اسے الہام کرتا ہے اور اپنی بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ موسیٰ کو تابوت میں بند کر کے سمندر میں ڈال دیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کو الہام کیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کریں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے کسی پردے کے اوٹ سے بات کرتا ہے، یعنی رسول اس کی بات تو سنتا ہے، لیکن اسے دیکھ نہیں پاتا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا تھا اور تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی جبرئیل (علیہ السلام) کو اپنے رسول کے پاس بھیجتا ہے اور حکم الٰہی کے مطابق اپنے رب کا پیغام بذریعہ وحی رسول تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس امر سے بہت ہی بلند و بالا ہے کہ کوئی مخلوق اس کے سامنے آ کر اس سے ہم کلام ہو، اگر ایسا فرض کرلیا جائے تو تجلی الٰہی کی روشنی اسے خاکستر کر دے گی، اس لئے کہ ناممکن ہے کہ اس کے سامنے کؤی دوسرا ٹھہر جائے اور وہ بڑا ہی حکمت و دانائی والا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ اپنا پیغام اپنے رسول تک کس طرح پہنچائے۔ آیت (52) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ تک ہم نے اپنی وحی انہیں مذکور بالا تیونوں طریقوں کے ذریعہ پہنچائی ہے۔ نزول وحی سے پہلے آپ کو نہ تو قرآن کا پتہ تھا اور نہ ایمان و عمل کی تفصیلات آپ جانتے تھے کہ خود آپ کو کیسے زندگی گذارنی ہے اور دوسروں کو کیا تعلیم دینی ہے۔ یہ تو وحی الٰہی کی برکت ہے کہ ہم نے آپ کو قرآن دیا ہے جس کی روشنی کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتے ہیں راہ حق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور جس کی بدولت آپ لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں، جو آسمانوں اور زمین کے مالک اللہ تک پہنچنے کا واحد سیدھا راستہ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت میں وحی کو روح سے اسی لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ مردہ دلوں کو زندگی ملتی ہے۔ اور اے میرے نبی ! آپ جان لیجیے کہ آخرت میں تمام امور کا فیصلہ صرف اللہ کرے گا، جو اپنے بندوں کے درمیان پورے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا، اور ہر ایک کو اس کے کئے کا اچھا یا برا بدلہ دے گا۔