إِن يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بے شک اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقیناً کئی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔
اگر اللہ چاہتا تو ہوا کو روک دیتا، پھر وہ کشتیاں سطح سمندر میں ٹھہری رہ جاتیں، یا اللہ چاہتا تو کشتی میں سوار لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے تیز و تند آندھی بھیج کر ان کشتیوں کو سمندر میں ڈبو دیتا، لیکن اللہ اپنے بندوں کے بہت سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے انہیں سمندر کی نذر نہیں کرتا۔ یہ تمام باتیں رب العالمین کے وجود، اس کی قدرت و عظمت اور حکمت و رحمت کی بڑی واضح دلیلیں ہیں، جن سے وہی لوگ مستفید ہوتے ہیں جو اپنے رب کی اطاعت و بندگی کی راہ میں تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں پر زبان و عمل کے ذریعہ شکر ادا کرتے ہیں۔