سورة الشورى - آیت 11

فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

(وہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمھارے لیے تمھارے نفسوں سے جوڑے بنائے اور جانوروں سے بھی جوڑے۔ وہ تمھیں اس (جہاں) میں پھیلاتا ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) میرا رب وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس نے تمہاری ہی جنس سے تمہاری بیویوں کو پیدا کیا ہے بایں طور کہ حوا کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا ہے، پھر زن و شو کے باہم ملاپ سے نسل انسانی کو باقی رکھا اور میرا رب وہ ہے جس نے جانوروں کے بھی (مذکر و مؤنث) جوڑے پیدا کئے ہیں، اس ذات باری تعالیٰ نے مرد و زن اور مذکر و مؤنث کے باہم ملاپ سے انسانوں اور تمام جانوروں اور بہائم کی نسلوں کو باقی رکھا ہے اور ان کی تعداد کو کثیر بنا کر دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات بیان کی ہے کہ کوئی چیز اس کے مانند نہیں ہے، وہ اپنی ذات و صفات میں اکیلا اور تنہا ہے اور وہ تمام آوازوں کو سننے والا اور تمام کائنات کی خبر رکھنے والا ہے۔ اس نے آسمانوں اور زمین میں اپنی مخلوقات کے لئے جو روزی پیدا کی ہے اور انعامات و اکرامات کے جو خزانے ان میں ودیعت کی ہے، ان کی چابیاں اسی کے پاس ہیں، وہ ان میں جس طرح چاہتا ہے اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرتا ہے، اپنے علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق کسی کی روزی میں وسعت دیتا ہے اور کسی کی روزی تنگ کردیتا ہے اس لئے روزی اور دیگر تمام حاجتیں اسی سے طلب کرنی چاہئے اس کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ نہیں ہے۔