سورة آل عمران - آیت 126

وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر تمھارے لیے ایک خوشخبری اور تاکہ تمھارے دل اس کے ساتھ مطمئن ہوجائیں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

90۔ فرشتوں کے ذریعہ امداد کی خبر مسلمانوں کے لیے ایک خوشخبری تھی، اور مقصد یہ تھا کہ ان کے دل مطمئن ہوں، ورنہ نصرت وفتح تو اللہ کی طرف سے آتی ہے، اللہ کسی سبب کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے بعد آیت (127) میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ چاہتا ہے کہ کفار قتل و بند کی سزا بھگتیں، یا شکست کے بعد ذلت و رسوائی اٹھائیں ْ