سورة ص - آیت 50

جَنَّاتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھلے ہوں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) اہل تقویٰ سے جس عمدہ جائے رہائش کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہوں گی، جن کے دروازے جنتیوں کے انتظار میں ہر دم کھلے رہیں گے اہل جنت ان جنتوں میں تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے جب چاہیں گے اپنی خواہش کے مطابق بہت سے پھل اور مشروبات مانگ لیا کریں گے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہاں طعام یعنی کھانے کا ذکر اس لئے نہیں ہوا ہے کہ ان کا کھانا اور پینا صرف لذت حاصل کرنے کے لئے ہوگا، دنیا کی زندگی کی طرح غذائیت حاصل کرنے کے لئے نہیں۔ اور اہل جنت کو ایسی بیویاں ملیں گی جو اپنے شوہوں کے سوا دوسرے مردوں کو نہیں دیکھیں گی، یا ان کے شوہر ان کے غایت حسن و جمال کی وجہ سے دوسری عورتوں کی طرف نہیں دیکھیں گے اور وہ بیویاں عمر میں متساوی ہوں گی، مجاہد کیقول کے مطابق ان کی عمریں تینتیس (٣٣) سال ہوں گی۔ آیت (٣٥) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اہل تقویٰ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ نعمت قیامت کے دن حساب کے بعد ملے گی اور یہی ہماری وہ روزی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔