سورة ص - آیت 45

وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر، جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(21) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ داؤد، سلیمان اور ایوب کی طرح ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے حالات کو بھی یاد کیجیے جو ہماری اطاعت و بندگی میں بڑی قوت کا مظاہرہ کرتے تھے اور دین کی اچھی سمجھ رکھتے تھے اور اسرار شریعت سے خوب واقف تھے اور چونکہ یہ سب ہر دم فکر آخرت میں لگے رہتے تھیاس کی کامیابی کے لئے کوشاں رہتے تھے اور لوگوں کو اسی کی دعوت دیتے تھے اور دنیا اور اس کی لذتوں پر دھیان نہیں دیتے تھے، اس لئے ہم نے انہیں اپنی خالص اور حقیقی محبت کے لئے خاص کرلیا تھا اور یہ سب ہمارے نزدیک بر گزیدہ اور اصحاب خیر تھے۔ اللہ نے فرمایا : اے ہمارے نبی ! آپ اسماعیل، السیع اور ذوالکفل کے حالات کو بھی یاد کیجیے۔ داؤد (علیہ السلام) سے لے کر ذوالکفل تک جنتے انبیاء کا ذکر آیا ہے، ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت (٨٤) کے آخر میں فرمایا کہ یہ تمام اللہ کے برگزیدہ انبیاء تھے اور آیت (٩٤) میں فرمایا کہ ان کا یہ ذکر جمیل دنیا میں ان کے لئے باعث شرف ہے اور آخرت میں اللہ اپنے تمام اہل تقویٰ بندوں کو بہت ہی عمدہ جائے رہائش دے گا، جن میں یہ انبیائے کرام بدرجہ اولیٰ شامل ہیں۔ داؤد (علیہ السلام) کے تذکرے میں لکھا جا چکا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان انبیائے کرام کے صبر و تحمل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے حالات سے فائدہ حاصل کریں اور دعوت اسلام کی راہ میں جو بھی تکلیف ہو اسے برداشت کریں۔